افغانستان کے مشرقی صوبوں کنڑ اور ننگرہار میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب آنے والے 6 شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی۔ حکام کے مطابق 812 افراد جاں بحق اور 2,800 سے زائد زخمی ہو گئے جبکہ کئی دیہات مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
شدید بارش، لینڈ سلائیڈز اور دشوار گزار پہاڑی راستوں کے باعث امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ طالبان انتظامیہ نے عالمی برادری سے ہنگامی امداد کی اپیل کی ہے۔ وزارت صحت کے ترجمان شرفات زمان نے کہا: ’’بہت سے خاندانوں نے جانیں اور گھر کھو دیے ہیں، فوری مدد کی ضرورت ہے۔‘‘
مقامی افراد نے رات کو خوف اور بے بسی میں گزارا۔ جلال آباد کے طالب علم ضیاء الحق نے بتایا: ’’ہم پوری رات اس فکر میں جاگتے رہے کہ کہیں دوبارہ زلزلہ نہ آجائے۔‘‘ فوجی ہیلی کاپٹرز زخمیوں کو اسپتال منتقل کر رہے ہیں جبکہ مقامی لوگ ہاتھوں سے ملبہ کھودتے رہے۔
کنڑ میں تین دیہات مکمل طور پر تباہ ہوگئے جہاں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔ یہ سانحہ ایسے وقت میں آیا ہے جب افغانستان پہلے ہی شدید معاشی بحران اور غیر ملکی امداد میں کمی کا شکار ہے۔ 2022 میں 3.8 ارب ڈالر سے کم ہو کر رواں سال صرف 767 ملین ڈالر کی امداد میسر آئی ہے۔
پاکستان نے افسوس اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’’ہمارے دل افغان بھائیوں اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں، پاکستان ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔‘‘ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی افغان قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی سے رابطہ کر کے تعزیت کی اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
یہ زلزلہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کا تیسرا بڑا سانحہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ہندوکش پہاڑی سلسلے میں زلزلے عام ہیں، لیکن کچی اینٹوں کے مکانات جانی نقصان بڑھا دیتے ہیں۔
