پاکستان کے معروف اداکار سید محمد احمد نے شوبز انڈسٹری میں اداکاروں کے ساتھ ہونے والے مالیاتی رویے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، خاص طور پر معاوضوں کی مسلسل تاخیر کے حوالے سے۔
سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں محمد احمد نے انکشاف کیا کہ بہت سے پروڈکشن ہاؤسز جان بوجھ کر فنکاروں کی ادائیگیاں تاخیر سے کرتے ہیں، اور فنکاروں کو "فقیروں کی طرح” اپنے پیسے مانگنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا، "ہر پراجیکٹ ایک جدوجہد بن جاتا ہے۔ وہ ہمیں یوں محسوس کرواتے ہیں جیسے ہم بھیک مانگ رہے ہوں، حالانکہ ہم صرف اپنی محنت کا حق مانگ رہے ہوتے ہیں۔”
اداکار نے مزید بتایا کہ شوبز انڈسٹری میں آج بھی معاوضے پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے، لیکن اب فنکار ان غیرمنصفانہ رویوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اداکاروں سے اکثر رات گئے — کبھی کبھار 1 بجے تک — کام لیا جاتا ہے، جو طے شدہ اوقات سے کہیں زیادہ ہوتا ہے، لیکن جب بات معاوضے کی آتی ہے تو پانچ سے چھ ماہ کی تاخیر معمول بن چکی ہے۔
"مہینوں کے انتظار کے بعد بھی ہمیں اپنے ذاتی حالات بتانے پڑتے ہیں تاکہ کسی طرح چیک ملے،” انہوں نے کہا۔ "اور جب وہ ملتا ہے تو ایسے دیا جاتا ہے جیسے کسی پر احسان کیا جا رہا ہو، حق نہیں دیا جا رہا۔”
اپنے پیغام کے اختتام پر محمد احمد نے زور دیا کہ اداکاروں کے ساتھ مالی ناانصافی اب ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، اور وقت آ گیا ہے کہ فنکار اجتماعی طور پر اس کے خلاف آواز بلند کریں۔
