پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں ہونے والے مذاکرات کا تیسرا روز بھی کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگیا، کیونکہ کابل حکومت نے ایک بار پھر پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی سے متعلق مطالبات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق پاکستان نے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہتے ہوئے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) اور اس سے وابستہ جنگجوؤں کو پناہ دینا بند کرے، جو پاکستان میں سرحد پار دہشت گرد حملوں میں ملوث ہیں۔
ایک اعلیٰ سیکیورٹی اہلکار کے مطابق “پاکستان کا مؤقف منطقی اور پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔” انہوں نے بتایا کہ ترکی اور قطر کے ثالث ممالک نے بھی پاکستان کے مطالبات کو “جائز اور مناسب” قرار دیا۔
کابل سے کوئی مثبت ردِعمل نہیں
ذرائع کے مطابق طالبان وفد کابل اور قندھار سے ہدایات لے رہا ہے، جس کے باعث مذاکرات میں تاخیر اور تعطل پیدا ہوا ہے۔
اسلام آباد نے واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان مخالف شدت پسندوں کو پناہ دینا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، میزبان ممالک کی کوششوں کے باوجود کابل سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا۔
سرحدی جھڑپوں کے بعد مذاکرات کا آغاز
یہ مذاکرات اس ماہ کے اوائل میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں کے بعد شروع ہوئے، جن میں پاکستانی افواج نے متعدد حملے پسپا کرتے ہوئے 200 سے زائد طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا، جبکہ 23 پاکستانی جوان شہید ہوئے۔
پاکستان نے بعد ازاں قندھار اور کابل میں اہم دہشت گرد ٹھکانوں پر ہوائی حملے کیے اور سیکیورٹی خدشات کے باعث سرحدی گزرگاہیں بند کر دیں۔
طالبان کا غیر لچکدار رویہ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق طالبان وفد کے دلائل “غیر منطقی اور زمینی حقائق سے دور” تھے، جس سے ان کے غیر سنجیدہ رویے کا تاثر مزید مضبوط ہوا ہے۔
ایک اہلکار نے کہا، “آئندہ پیشرفت طالبان کے رویے پر منحصر ہے۔ اگر وہ سنجیدگی دکھائیں تو مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں۔”
ذرائع کے مطابق ترکی طالبان وفد کو پاکستان کے شواہد اور خدشات سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم کابل کی ہٹ دھرمی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
