اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج ایران کے جوہری پروگرام پر خودکار طور پر دوبارہ عائد ہونے والی پابندیوں کو روکنے کے حوالے سے ووٹ ڈالے گی۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے۔
یہ قرارداد، جو جنوبی کوریا نے بطور موجودہ صدرِ سلامتی کونسل پیش کی ہے، منظور ہونے کے لیے 15 میں سے کم از کم 9 اراکین کی حمایت حاصل کرنا لازمی ہے۔ بصورتِ دیگر، ایران کے 2015 کے جوہری معاہدے میں طے شدہ تمام پابندیاں ماہِ رواں کے اختتام پر خود بخود دوبارہ نافذ ہوجائیں گی۔
گزشتہ ماہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے "اسنیپ بیک میکنزم” کو متحرک کیا تھا، جس کے تحت وہ تمام پابندیاں بحال ہو جائیں گی جو معاہدے کے تحت ختم کی گئی تھیں۔ ان میں روایتی ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی، بیلسٹک میزائلوں کی تیاری پر قدغن، اثاثوں کا انجماد، سفری پابندیاں اور جوہری ٹیکنالوجی سے متعلقہ سرگرمیوں پر روک شامل ہیں۔ اس عمل کو کسی بھی ملک کے ویٹو سے نہیں روکا جا سکتا، سوائے اس کے کہ سلامتی کونسل بذاتِ خود اسے معطل کرنے کے حق میں ووٹ دے۔
ایران اور یورپی ممالک کے درمیان حالیہ ہفتوں میں مذاکرات میں تیزی آئی ہے تاہم خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جمعرات کو اسرائیلی چینل 12 سے گفتگو میں کہا کہ پابندیاں اب "ایک طے شدہ حقیقت” ہیں اور ایران نے سنجیدہ عزم کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے بھی خبردار کیا کہ تہران کو فوری طور پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے غیر مشروط معائنوں کی اجازت دینی ہوگی۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کی بحالی "کسی قانونی یا منطقی جواز کے بغیر” ہے۔ انہوں نے مصر کی ثالثی میں IAEA کے ساتھ ایک علیحدہ معاہدے کا حوالہ دیا، جس کے تحت معائنہ کاروں کو تمام جوہری تنصیبات تک رسائی اور ایران کی طرف سے جوہری مواد کی باقاعدہ رپورٹنگ لازمی ہوگی۔
IAEA کے سربراہ رافائل گروسی نے اس معاہدے کی تصدیق کی، تاہم یہ نہیں بتایا کہ معائنے کب شروع ہوں گے۔
یہ بحث اُس پس منظر میں جاری ہے جب جون میں 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی اور امریکی حملوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے بعد ایران کے یورینیم کے ذخائر، جو ہتھیار بنانے کے قریب ترین سطح تک افزودہ ہیں، کی سکیورٹی اور حجم پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسنیپ بیک پابندیوں کے نفاذ سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایرانی حکام پہلے ہی دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر یہ قدم اٹھایا گیا تو ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) سے مکمل طور پر نکل سکتا ہے، وہی قدم جو شمالی کوریا نے 2003 میں ایٹمی ہتھیار بنانے سے پہلے اٹھایا تھا۔
