لندن: عالمی شہرت یافتہ گلوکار ایڈ شیرن نے برطانوی حکومت کے نئے نصاب میں اصلاحات کا خیرمقدم کیا ہے، جن کا مقصد اسکولوں میں بچوں کے لیے موسیقی کی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔
یہ تبدیلیاں برطانیہ کی ڈیپارٹمنٹ فار ایجوکیشن کی جانب سے متعارف کرائی گئی ہیں، جن کے تحت موسیقی اور فنون لطیفہ کو ریاضی اور سائنس جیسے مضامین کے برابر اہمیت دی جائے گی۔ ایڈ شیرن نے ان اصلاحات کو “ایسا بڑا قدم قرار دیا ہے جس سے موسیقی چند لوگوں کی عیاشی نہیں بلکہ ہر بچے کا حق بن جائے گی۔”
اپنی فاؤنڈیشن (Ed Sheeran Music Foundation) کے ذریعے بات کرتے ہوئے گلوکار نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں فنڈز کی کمی کے باعث ہزاروں سرکاری اسکولوں کے بچوں کی موسیقی سے وابستگی کم ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے بروقت سرمایہ کاری نہ کی تو برطانیہ کی 7.6 ارب پاؤنڈ مالیت کی موسیقی کی صنعت متاثر ہوسکتی ہے۔
“ساز بجانا یا اسٹیج پر پرفارم کرنا کوئی عیاشی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ یہ موقع ہر بچے کو ملنا چاہیے،” ایڈ شیرن نے کہا، ساتھ ہی حکومت سے 250 ملین پاؤنڈ کے فنڈ کا مطالبہ کیا تاکہ نئے موسیقی اساتذہ کی تربیت، آلاتِ موسیقی کی فراہمی اور نوجوانوں کے لیے گراس روٹس پروگرامز کو فروغ دیا جا سکے۔
نصاب میں شامل دیگر اصلاحات کے تحت نئے موسیقی اساتذہ کی بھرتی، اسکولوں میں وسائل کی فراہمی اور تخلیقی شعبوں میں تربیتی مواقع کو بھی بڑھایا جائے گا۔ اس مہم کو معروف گلوکار سر ایلٹن جان نے بھی سراہا ہے، جنہوں نے اسے “آئندہ نسل کے موسیقاروں کے لیے ناگزیر قدم” قرار دیا۔
تعلیمی حکام کے مطابق یہ اصلاحات “ہر کلاس روم میں تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے” کا موقع فراہم کریں گی، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام برطانیہ کے ثقافتی مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوگا۔
ایڈ شیرن کی حمایت اور حکومت کی نئی پالیسیوں کے ساتھ، ماہرین کو امید ہے کہ یہ اصلاحات موسیقی کی تعلیم کو زیادہ جامع، مساوی اور پائیدار بنائیں گی، تاکہ ہر بچہ — خواہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو — اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکے
