خیبر پختونخوا نے مالی سال 2025-26 کے لیے تعلیمی اخراجات میں 11 فیصد اضافہ کیا ہے، اور تعلیمی بجٹ کو 327 ارب روپے سے بڑھا کر 363 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد شرحِ خواندگی کے مسائل کو حل کرنا اور صوبے میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد کو کم کرنا ہے۔
صوبائی حکومت نے خصوصی "ایجوکیشن ایمرجنسی فنڈ” کے طور پر 5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اس فنڈ کا مقصد دیہی اور محروم علاقوں میں طلبہ کے داخلے اور تعلیمی ڈھانچے میں فوری بہتری لانا ہے۔
تعلیم کے کل بجٹ میں سے 5.9 ارب روپے سے زائد رقم 32 ہزار سے زیادہ سرکاری اسکولوں کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے رکھی گئی ہے۔ اس رقم سے کلاس رومز کی مرمت، فرنیچر، لیبارٹری کے آلات، تفریحی اور کھیلوں کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
خواتین کی تعلیم کے لیے ایک بڑے ریلیف کے طور پر، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 1.59 ارب روپے ماہانہ تنخواہوں کی مد میں کمیونٹی اسکولوں کے اساتذہ کو دیے جائیں گے، جن میں اکثریت خواتین پر مشتمل ہے۔ مزید برآں، حکومت نے 8.54 ارب روپے مفت درسی کتب کی فراہمی کے لیے مختص کیے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم پر بھی خاص توجہ دی گئی ہے۔ کالج کی تعلیم کے لیے بجٹ کو 36 ارب روپے سے بڑھا کر 50 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ جامعات کے بجٹ میں تین گنا سے زائد اضافہ کر کے اسے 3 ارب روپے سے بڑھا کر 10 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، خیبر پختونخوا حکومت پانچ نئے کالج قائم کرنے اور کچھ موجودہ اداروں کو ایپلائیڈ سائنسز سینٹرز میں تبدیل کرنے کے لیے 2.77 ارب روپے خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ تمام اقدامات صوبائی بجٹ کا حصہ ہیں جو جون 2025 میں پیش کیا گیا، جس میں کوئی نیا ٹیکس شامل نہیں اور 547 ارب روپے کے ریکارڈ سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کا اعلان بھی شامل ہے۔
