یوکرین کے دارالحکومت کیف میں جمعرات کو روسی میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم 21 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ یہ فروری 2022 کے بعد دوسرا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس واقعے پر "خوش نہیں لیکن حیران بھی نہیں” ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق صدر امن چاہتے ہیں لیکن "دونوں ممالک خود جنگ ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔”
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اسے "ماسکو کا امن کوششوں کو جواب” قرار دیا اور بتایا کہ رہائشی علاقوں، ترک ادارے اور آذربائیجان کے سفارتخانے کو بھی نقصان پہنچا۔
یورپی یونین اور برطانیہ نے روسی سفیروں کو طلب کر کے احتجاج کیا جبکہ یورپی کمیشن کی صدر نے مزید پابندیوں کا اعلان کیا۔ برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر نے کہا کہ "پیوٹن بچوں اور شہریوں کو قتل کر رہا ہے اور امن کی امیدوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔”
یوکرینی فضائیہ کے مطابق بیشتر میزائل اور ڈرون مار گرائے گئے لیکن توانائی کے ڈھانچے کو نقصان سے کئی علاقوں میں بجلی منقطع ہوگئی۔
یہ حملہ اس بات کا عندیہ ہے کہ جنگ ختم کرنے کی سفارتی کوششیں تاحال ناکام ہیں اور روس اپنی کارروائیاں تیز کرتا جا رہا ہے۔
