ملتان کی سیشن عدالت نے سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو جعلی تعلیمی اسناد استعمال کرنے کے جرم میں 17 سال قید اور جرمانے کی سزا سنادی۔
عدالتی فیصلہ اور الزامات
یہ مقدمہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے درج کرایا گیا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ جمشید دستی نے 2008 کے عام انتخابات میں این اے-178 مظفرگڑھ سے ایک مبینہ بی اے ڈگری کی بنیاد پر الیکشن لڑا، جو دراصل جعلی ثابت ہوئی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے تصدیق کی تھی کہ ایسی کسی ڈگری کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔
مزید یہ کہ انہوں نے 2024 کے انتخابات میں این اے-175 مظفرگڑھ سے الیکشن لڑنے کے دوران بھی جعلی ایف اے کا سرٹیفکیٹ جمع کرایا تھا۔
عدالت نے انہیں متعدد دفعات کے تحت مجرم قرار دیا، جن میں شامل ہیں:
دفعہ 420 (دھوکہ دہی)
دفعہ 468 (دستاویزات کی جعلسازی)
دفعہ 471 (جعلی دستاویز کو اصلی ظاہر کرنا)
دفعہ 206، اور آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی خلاف ورزی جو عوامی عہدے کے لیے اہلیت سے متعلق ہیں۔
اس کے ساتھ ہی عدالت نے انہیں 10 ہزار روپے جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا۔
سیاسی اثرات
جمشید دستی کو پہلے ہی الیکشن کمیشن جعلی ڈگری رکھنے پر نااہل قرار دے چکا ہے اور ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت ختم کردی گئی تھی۔ تازہ عدالتی فیصلے کے بعد ان کی سیاست میں واپسی مزید مشکل ہوگئی ہے۔
اہم پہلو
یہ کیس پاکستان کے سیاسی نظام میں احتساب کے حوالے سے ایک مضبوط پیغام ہے کہ جعلی اسناد اور بددیانتی برداشت نہیں کی جائے گی۔ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت اب امیدواروں پر زیادہ سخت نگرانی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ عوامی نمائندے دیانت اور سچائی کے معیار پر پورا اتریں۔
