ویب ڈیسک
مصنوعی ذہانت کے تیز رفتار پھیلاؤ کے ساتھ مذہبی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسان کی شناخت، روحانیت اور معاشرتی ڈھانچے کیلئے غیر معمولی چیلنج بن رہی ہے۔ جب ٹیکنالوجی کمپنیاں سپر انٹیلیجنس کی دوڑ میں آگے بڑھ رہی ہیں، مذہبی طبقہ انسانی وقار اور اخلاقی حدود کے تحفظ کی بات کر رہا ہے۔
مذہبی ماہرین کے مطابق اے آئی اب صرف ایک تکنیکی آلہ نہیں بلکہ انسانی زندگی، سوچ اور تعلقات پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔ اے آئی چیٹ بوٹس کے ذریعے جذباتی دھوکہ دہی، غلط رہنمائی اور تنہائی کا بڑھتا ہوا رجحان نئی اخلاقی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
دنیا بھر میں مسیحی، مسلم، یہودی اور دیگر مذاہب کے رہنما سرگرم ہو چکے ہیں۔ ویٹی کن کے بیانات سے لے کر امریکی ایوانوں میں مسیحی قیادت، اور افریقہ و ایشیا کے بین المذاہب اتحاد تک، سب کا مؤقف واضح ہے کہ اے آئی انسانیت کی خدمت کرے، اس کی جگہ نہ لے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مضبوط پالیسی، حفاظتی اصول اور اخلاقی نگرانی ناگزیر ہیں۔ بصورتِ دیگر، اے آئی طاقتور کمپنیوں کے ہاتھ مضبوط کر کے سماجی، خاندانی اور مذہبی ڈھانچوں کو کمزور کر سکتی ہے، جس کے نتائج انتہائی خطرناکہوں گے۔
