مس ورلڈ 2025 کے مقابلے کو اس وقت ایک بڑے تنازع کا سامنا ہے جب برطانیہ سے تعلق رکھنے والی امیدوار میلا میگی نے بھارت میں ہونے والے ایونٹ کے دوران اپنے ساتھ ہونے والے مبینہ ناروا سلوک پر کھل کر بات کی ہے۔
24 سالہ حسینہ نے برطانوی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔ میلا میگی کا کہنا تھا:
"میرے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جیسے میں کوئی جسم فروش ہوں۔ مجھے پورا دن دولت مند، درمیانی عمر کے مردوں کے ساتھ گزارنے پر مجبور کیا گیا، گویا میں ان کے لیے تفریح کا ذریعہ ہوں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ وہ مقابلے میں عزت کے ساتھ حصہ لینے آئی تھیں، نہ کہ "کسی کی تفریح یا مشغلہ بننے کے لیے۔” ان کا کہنا تھا:
"یہاں تک کہ مس ورلڈ جیسے مقابلے میں بھی کچھ اخلاقی حدود ہونی چاہییں۔”
میگی نے بتایا کہ وہ اس صورتحال کو مزید برداشت نہ کر سکیں اور فوراً ہی مقابلے سے دستبردار ہو کر واپس برطانیہ چلی گئیں۔
میگی کے انکشافات نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے، جہاں بہت سے صارفین نے تشویش اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بھارت میں ہونے والے ہائی پروفائل ایونٹس میں خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی مذمت کی ہے۔
تاحال مس ورلڈ کی منتظمین یا بھارتی ایونٹ حکام کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ واقعہ عالمی بیوٹی پیجینٹس میں اخلاقیات، سیکیورٹی اور خواتین کے ساتھ سلوک کے حوالے سے جاری بحث کو ایک بار پھر تازہ کر گیا ہے۔
