2018 میں جب فلم "استری (Stree)” ریلیز ہوئی، تو یہ ہندی سنیما کے لیے کسی تازہ جھونکے سے کم نہ تھی۔
ایک چھوٹے شہر پر مبنی ہارر کامیڈی، جو ڈر اور مزاح کے بیچ سماجی طنز بھی پیش کرتی تھی۔ اس فلم نے ایک نیا زاویہ دیا — یہاں مرد خوفزدہ تھے، اور ایک پراسرار عورت شہر میں گھومتی تھی۔
یہ فلم نہ صرف کامیاب رہی بلکہ ایک نئی کائنات — “میڈاک ہارر کامیڈی یونیورس (MHCU)” — کی بنیاد بھی بنی۔
لیکن جیسے جیسے یہ سلسلہ آگے بڑھا، ایک بات نمایاں ہونے لگی:
یہ فلمیں ہمیں ڈراتی تو ہیں، ہنساتی بھی ہیں، مگر کوئی حقیقی ہیرو یا نجات دہندہ ان میں نظر نہیں آتا۔
ایک نئے سلسلے کی شروعات
پروڈیوسر دینیش وِجن نے بالی ووڈ میں ایک منفرد تجربہ کیا —
ایک ایسا Shared Universe جہاں ہارر اور کامیڈی کو مقامی کہانیوں کے ذریعے جوڑا گیا۔
استری نے شروعات کی، روحی نے اسے آگے بڑھایا، بھیڑیا نے جدید وی ایف ایکس کے ساتھ نئی دنیا دکھائی، منجویا نے دیسی لوک کہانی کو جدید دور میں ڈھالا، اور اب ٹھمّا (Thamma) محبت اور مافوق الفطرت عناصر کا امتزاج پیش کر رہی ہے۔
تصور زبردست ہے، دنیا دلچسپ ہے، لیکن — کہانی کا مرکز، وہ نجات دہندہ کردار — کہیں کھو گیا ہے۔
کہاں ہے وہ “ہیرو”؟
فلم ناقدین اور شائقین دونوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ فلمیں اپنے دیسی دیومالائی رنگ سے بھرپور ہیں،
لیکن اکثر انسان صرف ردِعمل دکھاتے ہیں — اصل کہانی چلاتا ہے “جن یا بھوت”۔
انڈین ایکسپریس کی مصنفہ سرسوتی دتار نے لکھا:
“میڈاک یونیورس میں مرد ستاروں کو نمایاں کردار ملتے ہیں، لیکن وہ اصل معنوں میں نجات دہندہ نہیں بنتے۔”
یہی المیہ ہے — ہر فلم کا انجام کسی عجیب موڑ پر آ کر رکتا ہے۔
کہانی مکمل تو لگتی ہے، مگر جذباتی طور پر کچھ ادھورا رہ جاتا ہے۔
دلچسپ مگر ادھورا تضاد
عجیب بات یہ ہے کہ استری کی کہانی ہی عورت کی طاقت کو واپس لینے کے بارے میں تھی۔
وہ فلم مزاحیہ انداز میں مردانہ برتری کا مذاق اڑاتی تھی۔
لیکن جیسے جیسے سلسلہ آگے بڑھا، وہی تاثر کہیں کھو گیا۔
فلمیں بڑی ہو گئیں، مگر روح — وہ "ہیرو” جو ڈر کے بیچ امید بنے — پیچھے رہ گئی۔
آگے کیا؟
دینیش وِجن کے مطابق استری 3 میں نئے خیالات ہوں گے، اور وہ پرانے فارمولا دہرانا نہیں چاہتے۔
آنے والی فلمیں جیسے ٹھمّا اور شکتی شالینی شاید اسی تلاش کو نیا موڑ دیں۔
شائقین اب بھی اس دنیا سے محبت کرتے ہیں — لیکن صرف محبت کافی نہیں۔
اس دُنیا کو اب ایک ایسے کردار کی ضرورت ہے جو واقعی نجات دہندہ بن کر ابھرے۔
اختتامی خیال
میڈاک ہارر کامیڈی یونیورس بلاشبہ بالی ووڈ کی ایک جرات مندانہ کوشش ہے۔
یہ فلمیں دلچسپ، دیسی، اور جدید ہیں۔ لیکن جیسے ہر کہانی کو اختتام کے لیے ایک نجات دہندہ کی ضرورت ہوتی ہے،
ویسے ہی اس دنیا کو بھی کسی ایسے کردار کی تلاش ہے جو صرف ہنسائے یا ڈرائے نہیں — بلکہ بچائے۔
تب ہی شاید یہ سلسلہ مکمل کہلائے گا۔
