جنوبی کوریا کی معروف کمپنی نیور (Naver) نے اپنے فین بیسڈ پلیٹ فارم ویب ٹون ٹرانسلیٹ (WEBTOON Translate) کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ وہی پلیٹ فارم تھا جس نے کورین ویب ٹونز کو دنیا بھر کے لاکھوں قارئین تک پہنچایا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ایک ایسے دور کا اختتام ہو رہا ہے جس نے کورین کہانیوں کو عالمی زبانوں میں زندہ رکھا۔
کمپنی کے اعلان کے مطابق، ویب ٹون ٹرانسلیٹ 26 نومبر (پیسیفک ٹائم) کو مستقل طور پر بند کر دیا جائے گا، اور اس کے بعد پلیٹ فارم پر موجود تمام تر ترجمہ شدہ مواد مکمل طور پر حذف کر دیا جائے گا۔ نئی رجسٹریشن پہلے ہی ستمبر کے آخر میں بند کر دی گئی تھی۔
نیور کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ "غیر پائیدار آپریشنز” اور کمپنی کی "مرکزی صارف تجربات پر توجہ” کی حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا ہے۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو — اتنے بڑے پیمانے پر رضاکارانہ ترجمے کا نظام چلانا اب کمپنی کے لیے ممکن نہیں رہا۔
ایک پلیٹ فارم جو ثقافتوں کے درمیان پل بن گیا تھا
ویب ٹون ٹرانسلیٹ نے برسوں تک دنیا بھر کے قارئین کو کورین کہانیوں سے جوڑے رکھا۔ ہزاروں فینز نے مختلف زبانوں میں ویب ٹونز کے تراجم کیے — جن میں انگریزی، ہسپانوی، عربی، انڈونیشین اور دیگر زبانیں شامل تھیں۔
یہ صرف ترجمے کا کام نہیں تھا بلکہ ایک کمیونٹی تھی۔ بہت سے رضاکار مترجم اسی پلیٹ فارم سے پیشہ ور مترجم بنے، اور کئی نے اپنے شوق کو کیریئر میں بدل لیا۔
اب وہ رابطہ ختم ہونے جا رہا ہے۔ جن قارئین نے فین ترجموں پر انحصار کیا، انہیں اب اپنی پسندیدہ سیریز تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
بندش کے پیچھے وجوہات کیا ہیں؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیور کا یہ فیصلہ صرف اخراجات بچانے کے لیے نہیں بلکہ اسٹریٹجک تبدیلی کا حصہ ہے۔ کمپنی اب مختلف ممالک میں اپنے پلیٹ فارم کے مقامی ورژن متعارف کروا رہی ہے اور براہِ راست لائسنسنگ معاہدے کر رہی ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ نیور اب ترجمے کے معیار اور مواد پر زیادہ کنٹرول چاہتا ہے — تاکہ سرکاری تراجم کے ذریعے اپنی برانڈ شناخت اور حقوقِ ملکیت کو بہتر طریقے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
تاہم، بہت سے پرانے فینز کے لیے یہ خبر مایوس کن ہے۔ ان کے نزدیک یہ پلیٹ فارم ایک ایسی جگہ تھی جہاں شوق، زبان اور ثقافت سب مل کر ایک نئی دنیا بناتے تھے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
مترجمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 26 نومبر سے پہلے اپنا کام ڈاؤن لوڈ کر لیں، کیونکہ اس تاریخ کے بعد تمام ڈیٹا حذف کر دیا جائے گا۔ فی الحال کمپنی نے کوئی متبادل پلیٹ فارم متعارف نہیں کرایا ہے اور نہ ہی یہ واضح کیا ہے کہ مستقبل میں فین فیچرز واپس آئیں گے یا نہیں۔
عالمی قارئین کے لیے یہ بندش ایک دور کے خاتمے کی علامت ہے — وہ دور جب فینز محض صارف نہیں بلکہ کورین کہانیوں کے سفیر تھے۔
نتیجہ
نیور کا یہ فیصلہ کاروباری لحاظ سے درست ہو سکتا ہے، مگر لاکھوں ویب ٹون کے چاہنے والوں کے لیے یہ ایک احساسِ نقصان ہے۔
ویب ٹون ٹرانسلیٹ صرف ایک ویب سائٹ نہیں تھی — یہ ایک عالمی برادری تھی جو کہانیوں کے عشق میں جڑی ہوئی تھی۔
اب جب یہ باب بند ہو رہا ہے، سوال یہ ہے:
کیا اگلا باب بھی اتنا ہی مشترکہ، تخلیقی اور عالمی ہوگا؟
