اسلام آباد/مظفرآباد — وفاقی حکومت اور حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو مذاکرات کی بحالی کی دعوت دے دی ہے، تاکہ جاری بدامنی اور کشیدگی کم کی جا سکے۔ یہ پیشکش ایسے وقت میں کی گئی جب احتجاجی مظاہروں کے دوران بدھ کو تین پولیس اہلکار شہید اور سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
تین روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال اور مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کی روزمرہ زندگی متاثر کی، جبکہ جے اے اے سی اپنے مطالبات پر اصرار کر رہی ہے۔ پچھلے ہفتے وفاقی وزراء اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات میں مہاجرین کے مخصوص نشستوں اور بعض اشرافیہ مراعات کی شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا تھا۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وزیراعظم آزادجموں و کشمیر چوہدری انوار الحق کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ایکشن کمیٹی کے 90 فیصد مطالبات پہلے ہی قبول کیے جا چکے ہیں اور ان پر عمل درآمد کی تحریری ضمانت موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دو متنازع مطالبات — مہاجر نشستوں کا خاتمہ اور وزارتی عہدوں کی تعداد میں کمی — آئینی ترمیم کے متقاضی تھے، جس کی وجہ سے مذاکرات رک گئے۔
ڈاکٹر طارق نے واضح کیا کہ وفاق اور آزاد کشمیر حکومت آج بھی پرامن مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور ان کا اشارہ رہا کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں۔ وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر چوہدری انوار الحق نے بھی مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ جہاں بات ٹوٹی تھی، وہاں سے مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں۔ انہوں نے مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے شہدا پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور اپیل کی کہ احتجاج پر امن اور قانون کے مطابق ہو۔
