بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پاکستان کی ایکسٹینڈڈ فنڈ سہولت (EFF) کے تحت کارکردگی کو "مضبوط” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے۔
آئی ایم ایف کے پاکستان میں مقیم نمائندے ماہر بنچی نے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ (SDPI) میں لیکچر دیتے ہوئے کہا کہ مئی میں پہلا IMF جائزہ کامیابی سے مکمل ہونا ایک اہم سنگ میل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی پالیسی اقدامات نے معاشی استحکام بحال کرنے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے میں مدد دی ہے۔
تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ طویل مدتی ترقی کے لیے بنیادی اصلاحات ضروری ہیں، خاص طور پر ٹیکس نظام میں بہتری، کاروباری ماحول کو آسان بنانا، اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا۔
ماہر بنچی نے پاکستان کی ماحولیاتی پالیسیوں میں پیش رفت کو بھی سراہا جو ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسیلیٹی (RSF) کے تحت ہو رہی ہیں۔
"RSF کے ذریعے ملنے والا تعاون پاکستان کو ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دے گا اور گرین سرمایہ کاری کو فروغ دے گا،” انہوں نے کہا۔
RSF کے اہم شعبے:
-
عوامی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی میں بہتری
-
پانی کے وسائل کا مؤثر استعمال
-
آفات سے نمٹنے کی تیاری اور مالیاتی نظام
-
ماحولیاتی ڈیٹا میں شفافیت
SDPI کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے آئی ایم ایف کی شرکت کو سراہا اور کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے بامقصد مکالمہ اور بین الاقوامی تعاون بہت اہم ہے۔
پاکستان نے مارچ 2025 میں آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے اسٹاف لیول معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد معاشی استحکام اور اصلاحات کو فروغ دینا تھا۔
