پروفیسر ڈاکٹر سمرین حسین (ستارہ امتیاز، تمغہ امتیاز) نے داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (DUET) کی وائس چانسلر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کو اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ اسے فوری طور پر قبول کیا جائے، اور ساتھ ہی ایک ماہ کا نوٹس چھوڑ کر ایک ماہ کی تنخواہ بطور معاوضہ دینے کی پیشکش کی ہے۔
پس منظر اور کیریئر کا خلاصہ
ڈاکٹر سمرین نے 2023 کے اوائل میں بطور وائس چانسلر چارج سنبھالا۔ جلد ہی ان کے فیصلے — خاص طور پر 88 کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کرنے — نے تنازعات کو جنم دیا۔ ان برطرفیوں کے لیے صوبائی حکومت کی منظوری درکار تھی کیونکہ اس وقت مبینہ طور پر نئی بھرتیوں پر پابندی تھی۔ اگرچہ مہنگائی کے دور میں اس فیصلے پر تنقید ہوئی، ڈاکٹر سمرین نے اسے پالیسی کے مطابق قرار دیا۔
اس سے قبل وہ آئی بی اے سکھر میں سینئر تعلیمی عہدے پر فائز تھیں۔ ان کے وہاں سے جانے کی وجوہات واضح نہیں، لیکن ان کی قومی سطح پر شہرت بڑھتی جا رہی تھی۔ ان کی سیاسی وابستگیوں کے تناظر میں اگست 2024 میں اورنگی ٹاؤن میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا جس میں وہ محفوظ رہیں۔
مارچ 2025 میں، انہیں تعلیم کے شعبے میں خدمات کے اعتراف میں گورنر سندھ کی جانب سے ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔
استعفے کی ممکنہ وجوہات
اگرچہ ان کے استعفیٰ میں کسی خاص وجہ کا ذکر نہیں، لیکن ممکنہ عوامل میں شامل ہیں:
-
2023 میں کیے گئے ملازمین کے برطرفی فیصلوں پر تنقید اور احتجاج۔
-
سیاسی دباؤ، خاص طور پر ان کے خاندانی پس منظر کے باعث۔
-
پیشہ ورانہ ترقی کی خواہش، خاص طور پر اعلیٰ سطح کے اعزازات کے بعد۔
اہم واقعات کی ٹائم لائن
-
اوائل 2023 – وائس چانسلر، DUET مقرر ہوئیں
-
اپریل 2023 – 88 کنٹریکٹ ملازمین کو برطرف کیا
-
اگست 2024 – اورنگی ٹاؤن میں گاڑی پر حملہ
-
مارچ 2025 – ستارہ امتیاز حاصل کیا
-
جولائی 2025 – استعفیٰ دے دیا
DUET کا مستقبل؟
اگر وزیر اعلیٰ استعفیٰ قبول کر لیتے ہیں، تو یونیورسٹی کو ایک عبوری وائس چانسلر کی ضرورت ہوگی۔ ڈاکٹر سمرین کا دور انتظامی تبدیلیوں اور سیاسی اثرات سے بھرپور تھا، جس کے باعث ان کا جانا یونیورسٹی اور سندھ کی اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک نازک مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کو اب ادارے میں استحکام اور اعتماد کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔
