پنجاب حکومت نے سرکاری کالجوں کے انتظامی نظام میں بڑی اصلاحات کی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت کالج مینجمنٹ کونسلز کو دس کروڑ روپے تک کے مالی اختیارات دینے کا منصوبہ ہے تاکہ ادارہ جاتی سطح پر کارکردگی اور فیصلہ سازی کو بہتر بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اس حوالے سے ایک تفصیلی سمری صوبائی کابینہ کو ارسال کر دی ہے، جس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ موجودہ کالج مینجمنٹ کونسلز موجودہ نظام کے تحت مؤثر انداز میں کام کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
مجوزہ اصلاحات کا مقصد کالج سطح پر گورننس کو مضبوط بنانا اور روزمرہ کے انتظامی امور کو بہتر بنانا ہے۔ نئے منصوبے کے تحت کالجوں کو مقامی سطح پر مالی اور انتظامی فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، جس سے مرکزی منظوری کے باعث ہونے والی تاخیر میں کمی آئے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تعلیمی ادارے بنیادی ڈھانچے، تعلیمی ضروریات اور طلبہ کی سہولیات سے متعلق ہنگامی مسائل کو زیادہ مؤثر اور بروقت انداز میں حل کر سکیں گے۔
تنظیم نو کے عمل کے تحت کالج مینجمنٹ کونسلز کی ساخت کو وسعت دی جائے گی، جس میں نمائندگی میں اضافہ اور نگرانی کے سخت نظام متعارف کرائے جائیں گے۔ حکام کے مطابق فنڈز کے شفاف اور درست استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر احتسابی اقدامات بھی نافذ کیے جائیں گے۔
تعلیمی حکام نے کہا کہ یہ اصلاحات سرکاری کالجوں کو درپیش دیرینہ انتظامی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوں گی اور صوبے بھر میں طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے تعلیمی اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
