پنجاب حکومت نے ہزاروں اسکولوں کو نجی انتظامیہ کے حوالے کرنے کے بعد سرکاری کالجز کی نجکاری بھی شروع کر دی ہے، جس پر صوبے بھر کی اساتذہ تنظیموں کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں صوبے کے 750 سرکاری کالجز میں سے 100 کالجز — جن میں راولپنڈی کے دونوں کامرس کالجز بھی شامل ہیں — آؤٹ سورس کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ اقدام 12,500 اسکولوں کی نجکاری کے بعد کیا جا رہا ہے۔ یکم نومبر سے مزید 7,000 پرائمری اور مڈل اسکولز، جبکہ کئی ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکول بھی نجی شعبے کے حوالے کیے جائیں گے۔ 100 سے کم طلبہ والے اسکولوں کو ترجیح دی جائے گی اور عملہ طلبہ کی تعداد کے مطابق تعینات کیا جائے گا۔
پنجاب کے وزیرِتعلیم رانا سکندر حیات نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کامرس کالجز میں فی طالب علم سالانہ 3 لاکھ روپے خرچ کرنے کا جواز پیش نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ جدید ترین لیبارٹریز اور تقریباً 400 کمپیوٹرز سے آراستہ جدید کامرس ادارے قائم کرے گا تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
یہ منصوبہ 31 مارچ 2026 تک اسکولوں اور کالجز کی مکمل نجکاری کا ہدف رکھتا ہے، تاکہ نئے تعلیمی سال سے قبل پورا نظام منتقل ہو سکے۔ تاہم، اساتذہ یونینز نے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے صوبہ بھر میں احتجاج، ہڑتالیں اور دھرنے دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ نجکاری کے اس عمل کو روکا جا سکے۔
