پانچ سال کے طویل وقفے کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے ہفتے کے روز برطانیہ کے لیے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر دیں۔ پہلی پرواز PK-701، جو بوئنگ 777 طیارے پر مشتمل تھی، اسلام آباد ایئرپورٹ سے مانچسٹر کے لیے روانہ ہوئی۔
افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف، برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ اور اعلیٰ حکومتی و سفارتی عہدیداروں نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ حکومت قومی ایئرلائن کو ایک بار پھر منافع بخش اور قابلِ اعتماد ادارہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ "ہم نے اپنی قومی ایئرلائن کے معیار اور ساکھ کو بحال کر لیا ہے۔”
انہوں نے پاکستانی سفارتی عملے کی کوششوں اور برطانوی ہائی کمشنر کے تعاون کو سراہا۔
برطانیہ نے جولائی 2025 میں پاکستانی ایئرلائنز پر عائد پابندی ختم کر دی تھی، جس کے بعد پی آئی اے کو تھرڈ کنٹری آپریٹر (TCO) کی منظوری ملی۔
پاکستان کے ہائی کمشنر محمد فیصل نے کہا کہ اسلام آباد سے مانچسٹر کی پرواز برطانیہ کے دیگر شہروں کے لیے پروازوں کا راستہ کھول سکتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پی آئی اے نے 2020 کے کراچی طیارہ حادثے کے بعد اعتماد بحال کرنے کے لیے پائلٹ لائسنس کے نظام کو مکمل طور پر شفاف بنایا ہے۔
"ہم نے ایک نیا نظام متعارف کرایا ہے جس میں بیرونی ماہرین اور ریگولیٹری اداروں کی نگرانی شامل ہے،” فیصل نے کہا۔
"پاکستانی پائلٹ دنیا بھر میں اپنی مہارت کی وجہ سے مشہور ہیں۔”
پابندی کے باعث پی آئی اے کو سالانہ تقریباً 40 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔ تاہم اب برطانوی پروازوں کی بحالی کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ قومی ایئرلائن ایک نئی شروعات کرے گی۔
