ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ملاقات کی۔ یہ 13 برس بعد کسی پاکستانی وزیرِ خارجہ کا بنگلہ دیش کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے، تاریخی روابط کی بحالی، علاقائی روابط کو فروغ دینے، نوجوانوں کے تبادلے بڑھانے اور تجارت و اقتصادی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے پر بات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
چھ معاہدوں پر دستخط
وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد دونوں ملکوں نے چھ معاہدوں پر دستخط کیے، جن میں شامل ہیں:
-
سفارتی و سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
-
تجارتی مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر مفاہمتی یادداشت
-
پاکستان اور بنگلہ دیش کی فارن سروس اکیڈمیوں کے درمیان تعاون کا معاہدہ
-
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APP) اور بنگلہ دیش سانگباد سنگستھا (BSS) کے درمیان معاہدہ
-
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (ISSI) اور BIISS کے درمیان معاہدہ
-
پاکستان-بنگلہ دیش ثقافتی تبادلہ پروگرام
دفترِ خارجہ کے مطابق یہ معاہدے "تجارت، سفارتکاری، تعلیمی و صحافتی تعاون اور ثقافتی تعلقات کو ادارہ جاتی سطح پر مزید مستحکم کریں گے۔”
نالج کوریڈور کا آغاز
اس موقع پر پاکستان-بنگلہ دیش نالج کوریڈور کا آغاز بھی کیا گیا، جس کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں 500 بنگلہ دیشی طلبہ کو پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف دیے جائیں گے، جن میں سے ایک چوتھائی میڈیکل شعبے کے لیے مختص ہوں گے۔ مزید برآں، 100 بنگلہ دیشی سول سرونٹس کو بھی پاکستان میں تربیت دی جائے گی۔
سیاسی ملاقاتیں
ڈار نے بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (BNP) کی چیئرپرسن اور سابق وزیرِاعظم بیگم خالدہ ضیا سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور ان کی صحت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی طرف سے پیغام بھی پہنچایا۔
اس کے علاوہ نائب وزیرِاعظم نے جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمٰن سے بھی ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے تعلقات مزید بڑھانے پر زور دیا۔
بدلتی صورتحال
یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں بہتری کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، خاص طور پر اس وقت سے جب شیخ حسینہ کو طلبہ تحریک کے نتیجے میں اقتدار چھوڑنا پڑا اور وہ بھارت چلی گئیں۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک نے تجارتی روابط بڑھائے ہیں، جن میں سمندری تجارت اور سرکاری سطح پر براہِ راست کاروبار شامل ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق، "مذاکرات تعمیری ماحول میں ہوئے اور دونوں ملکوں کے درمیان موجود خیرسگالی اور گرمجوشی کی عکاسی کرتے ہیں۔”
— اضافی رپورٹنگ: اے پی پی
