متحدہ عرب امارات کی وزارتِ تعلیم نے امتحانات میں نقل یا امتحانی مواد لیک کرنے میں ملوث اسکول اسٹاف کے لیے سخت سزائیں متعارف کر دی ہیں، جن میں 2 لاکھ درہم تک جرمانہ بھی شامل ہے۔ یہ اقدامات پہلی سہ ماہی کے مرکزی امتحانات کے آغاز (20 نومبر) سے قبل لیے گئے ہیں، جو نئے جاری کردہ “امتحانی بددیانتی اور نقل کی روک تھام گائیڈ” کے تحت ہوں گے۔
اس گائیڈ کا مقصد امتحانی شفافیت برقرار رکھنا، تعلیمی دیانت داری کو یقینی بنانا اور تمام طلبہ کو برابر مواقع فراہم کرنا ہے۔ اسکولوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ طلبہ اور والدین کے لیے آگاہی پروگرام منعقد کریں، تاکہ امتحانی اخلاقیات اور خلاف ورزیوں کی سزائیں واضح کی جا سکیں۔
پالیسی کے مطابق اسکولوں کو اندرونی نگرانی کمیٹیاں تشکیل دینا ہوں گی، گائیڈ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کرنا ہوگی اور نقل کے واقعات سرکاری طریقہ کار کے ذریعے رپورٹ کرنے ہوں گے۔ امتحانی مراکز اور مارکنگ پوائنٹس پر اچانک معائنے بھی کیے جائیں گے۔
نقل کرتے پکڑے جانے والے طلبہ کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں زیرو نمبر، 12 کنڈکٹ پوائنٹس کی کٹوتی، ٹیمپرڈ جواب ناموں کو چیکنگ سے خارج کرنا اور لازمی تربیتی پروگرام میں شرکت شامل ہے۔
ممنوعہ عمل میں الیکٹرانک ڈیوائسز کا استعمال، پیپرز کی تصویر کشی یا شیئرنگ، دوسروں کو مدد دینا، ڈیجیٹل لیکس، اشارے کرنا یا نگران پر اثر انداز ہونے کی کوشش شامل ہیں۔ امتحان کے دوران بغیر اجازت ہال سے نکلنا بھی خلاف ورزی تصور ہوگا۔
اسکول کے وہ عملہ جو نقل کروانے میں مدد کرے یا امتحانی معلومات کی رازداری متاثر کرے، اسے انتظامی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا اور 2 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ سنگین کیسز میں متعلقہ اداروں کو رپورٹ کیا جائے گا۔
وزارت نے واضح کیا کہ یہ قوانین آن لائن اور عملی دونوں امتحانات پر لاگو ہوں گے، تاکہ ملک بھر میں منصفانہ اور محفوظ امتحانی نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
