خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان آرمی کے ایک افسر، میجر سبطین حیدر، ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کے دوران شہید ہوگئے۔ آپریشن میں سات بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد مارے گئے، آئی ایس پی آر نے جمعرات کو تصدیق کی۔
فوج کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی 8 اکتوبر کو درابن کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں میجر سبطین حیدر نے بہادری سے اپنی ٹیم کی قیادت کی اور جامِ شہادت نوش کیا۔
میجر سبطین کی عمر 30 سال تھی اور وہ کوئٹہ کے رہائشی تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا، جو سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔
صدر آصف علی زرداری نے میجر سبطین کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جان قربان کرکے ایک عظیم مثال قائم کی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی سیکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہتے ہوئے دہشت گردوں کو فتنہ الخوارج قرار دیا، جو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے دہشت گردوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔”
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ باقی دہشت گردوں کا بھی خاتمہ کیا جا سکے۔
یہ کارروائی ایک روز بعد ہوئی جب اورکزئی میں ہونے والے ایک دوسرے IBO کے دوران دو افسران اور نو جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 19 دہشت گرد مارے گئے۔
پاک فوج نے حال ہی میں اپنی 272ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں اعادہ کیا کہ وہ بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گرد گروہوں جیسے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہند کو مکمل طور پر ختم کرے گی۔
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CRSS) کے مطابق، 2025 کی تیسری سہ ماہی میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 46 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جن میں سے زیادہ تر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔
