پاکستانی اداکارہ اقرا عزیز نے بالی وُڈ اسٹار دپیکا پڈوکون کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماں بننے کے بعد ایک عورت کے لیے متوازن اوقاتِ کار مانگنا بالکل جائز ہے، اور اسے خودغرضی یا “ڈیمانڈنگ نیچر” نہیں کہا جانا چاہیے۔
دپیکا پڈوکون حال ہی میں اس وقت خبروں کی زینت بنیں جب انہوں نے اپنے نئے فلمی منصوبوں — Spirit اور Kalki 2898 AD کے سیکوئل — کے لیے آٹھ گھنٹے کے ورک ڈے اور ویک اینڈ پر چھٹی کی شرط رکھی۔
اطلاعات کے مطابق پروڈیوسرز نے ان کی یہ خواہش تسلیم نہیں کی، جس کے بعد اداکارہ نے ایک منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی۔
بعدازاں ایک انٹرویو میں دپیکا نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد مطالبہ کرنا نہیں بلکہ ایک صحت مند اور متوازن کام کے ماحول کی بات کرنا تھا۔
“جب مرد اداکار محدود گھنٹے کام کرتے ہیں تو اسے پروفیشنلزم کہا جاتا ہے،
لیکن جب کوئی خاتون ایسا کرتی ہے تو اسے مشکل مزاج کہا جاتا ہے،” دپیکا نے کہا۔
اقرا عزیز کا پیغام: “ایک ماں وقت کی عزت چاہتی ہے، رعایت نہیں”
اقرا عزیز نے اپنے انسٹاگرام اسٹوری پر دپیکا کا کلپ شیئر کرتے ہوئے ایک جذباتی نوٹ لکھا، جو بہت سی کام کرنے والی ماؤں کے دل کی آواز بن گیا۔
“اصل بات آٹھ گھنٹے کی شفٹ نہیں، بلکہ اسے ‘ڈیمانڈنگ’ قرار دینا غلط ہے۔
ایک ماں جو کام اور زندگی میں توازن چاہتی ہے، وہ سپورٹ کی مستحق ہے،” اقرا نے لکھا۔
“جب تک وہ اپنا کام وقت پر مکمل کرتی ہے، ساتھیوں کو اس کے وقت کی عزت کرنی چاہیے۔”
اقرا خود بھی ایک بچے کی ماں ہیں، اور ان کا یہ مؤقف ماں بننے کے بعد کام پر واپس آنے والی خواتین کے لیے ایک مضبوط پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
انڈسٹری میں نئی بحث کا آغاز
دپیکا کی بات نے صرف بھارت ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں فلمی صنعت کے طرزِ عمل پر بحث چھیڑ دی ہے۔
نامور ہدایتکار ہنسل مہتا نے بھی فلم انڈسٹری کے طویل اور غیر انسانی اوقاتِ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “بے انتہا سفر، نیند کی کمی، اور لمبے شوٹنگ سیشن کسی بھی فنکار کے لیے تباہ کن ہیں۔”
اگرچہ کچھ پروڈیوسرز کا کہنا ہے کہ کم اوقاتِ کار سے پروڈکشن شیڈول متاثر ہوسکتے ہیں،
لیکن کئی لوگ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایک متوازن ورک کلچر ناگزیر ہو چکا ہے — خاص طور پر ان خواتین کے لیے جو ماں بننے کے بعد دوبارہ کام شروع کرتی ہیں۔
اقرا عزیز کی حمایت نے اس بحث کو سرحدوں سے پرے ایک نیا رخ دیا ہے:
یہ صرف کام کے گھنٹوں کی بات نہیں، بلکہ احترام اور ہمدردی کے کلچر کی ضرورت کی بات ہے۔
