ڈیرہ اسماعیل خان — 16 اکتوبر: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھو چکی ہے، کارکن اسلام آباد جانے کی تیاری کریں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں منعقدہ مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’’پارلیمنٹ اب گھر کی لونڈی بن چکی ہے‘‘ اور عوام کی حقیقی نمائندگی نہیں کر رہی۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہم جس جمہوریت کے علمبردار ہیں، وہ آئینی، اسلامی اور عوامی جمہوریت ہے، جو قرآن و سنت کی رہنمائی میں قائم ہو۔ اگر کسی نظام میں اسلام کی سربلندی نہیں اور وہاں غیر ملکی قوتوں کی غلامی ہے تو ہم ایسے نظام کو مسترد کرتے ہیں۔‘‘
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’’تمہارا مستقبل ٹرمپ یا مغربی سیاست میں نہیں بلکہ مفتی محمود کے نظریے میں ہے۔‘‘
انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ ’’سی پیک روٹ تمہارے لیے ہے، اسلام آباد جانے کی تیاری کرو۔‘‘
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 1977 میں جب ملک بھر میں دھاندلی کے خلاف تحریک اٹھی، تو اس کی قیادت مفتی محمود نے کی تھی۔ ’’ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ چوری شدہ انتخابات کو تسلیم نہیں کریں گے — نہ 2018 کے، نہ 2024 کے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک عوام کو ان کے ووٹ کا حق واپس نہیں مل جاتا۔‘‘
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ’’ہماری سیاست گالی گلوچ یا بداخلاقی کی نہیں بلکہ اعلیٰ اسلامی اقدار کی سیاست ہے۔‘‘
انہوں نے اسرائیل سے تعلقات کے حوالے سے کہا کہ ’’جب ملک میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہوئیں تو عوامی دباؤ نے ان عزائم کو ناکام بنایا۔ جب تک ہم زندہ ہیں، کوئی اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکے گا۔‘‘
مولانا فضل الرحمٰن نے یاد دلایا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے اسرائیل کو ’’ناجائز ریاست‘‘ قرار دیا تھا، اور ان کے اصولوں کو برقرار رکھنا ہی حقیقی وفاداری ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ کارکن اسلام آباد مارچ کے لیے تیار رہیں، کیونکہ ’’وقت قریب ہے۔‘‘
