COP30: سائنسدانوں نے خبردار کیا، عالمی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا اور مرجان کی چٹانیں ختم ہو رہی ہیں
دنیا کے رہنما COP30 اجلاس میں شریک ہیں، جہاں نئی سائنسی رپورٹس سے ظاہر ہوا ہے کہ زمین کا درجہ حرارت توقع سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس سے اہم ماحولیاتی نظام جیسے کہ مرجان کی چٹانیں خطرے میں ہیں اور شدید موسمی حالات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، عالمی درجہ حرارت فی دہائی 0.27 ڈگری سینٹی گریڈ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے، جو پہلے کے اندازوں سے کافی زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار جاری رہی تو اگلے دس سالوں میں زمین 1.5 ڈگری درجہ حرارت میں اضافے کی حد عبور کر سکتی ہے، جس سے ناقابلِ واپسی ماحولیاتی اور اقتصادی نتائج سامنے آئیں گے۔
سب سے اہم تشویش مرجان کی چٹانوں کا نقصان ہے۔ سمندر کے بڑھتے درجہ حرارت اور اس کے تیزابی اثرات کی وجہ سے مرجان سفید ہو کر مرنے لگے ہیں، جس سے سمندری حیات اور ماہی گیری و سیاحت پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کے روزگار کو خطرہ ہے۔
ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ قطبی برف کے بڑے پیمانے پر پگھلنے، سمندروں کی سطح میں اضافہ، اور شدید گرمی کی لہر اور سیلاب کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2025 کو ممکنہ طور پر سب سے زیادہ گرم سالوں میں شمار کیا جائے گا، جو فوری عالمی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
ماحولیاتی گروپوں نے ترقی یافتہ ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ حساس ممالک کے لیے مالی معاونت میں اضافہ کریں تاکہ وہ موسمی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر فوری اور مؤثر پالیسی اقدامات نہ کیے گئے تو اگلے بیس سالوں میں دنیا ماحولیاتی اور اقتصادی بحران کا سامنا کر سکتی ہے۔
