پاکستانی حکومت نے ملک کی زوال پذیر فلم اور سنیما انڈسٹری کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اہم اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ایک ایسا شعبہ جو کبھی ملک کی ثقافتی پہچان ہوا کرتا تھا، اب برسوں کی غفلت، پرانے قوانین اور بدلتی ناظرین کی عادات کے باعث زوال کا شکار ہے۔
وفاقی وزیر مصدق ملک کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں فلمی صنعت کی بحالی کے لیے جامع پالیسی پر غور کیا گیا، جس کا مقصد سنیما کلچر کو دوبارہ فروغ دینا اور تخلیقی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔
بحالی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے
اجلاس میں وزارتِ اطلاعات و نشریات، وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت، اور وزارتِ تعلیم کے نمائندوں نے شرکت کی۔
شرکاء نے فلم سازی، تقسیم، اور سنیما کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق:
"ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں کہانی سنانے والوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں وہ کھل کر تخلیق کر سکیں۔ سنیما محض تفریح نہیں، بلکہ یہ ہماری ثقافت، شناخت اور قومی بیانیے کا ذریعہ ہے۔”
ذرائع کے مطابق حکومت فلم سازوں اور سنیما مالکان کے لیے ٹیکس میں رعایتیں، ڈیجیٹل پروڈکشن کی سہولتیں، اور سرمایہ کاری کے نئے ماڈلز پر غور کر رہی ہے۔
اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں پرانے سینما گھروں کو دوبارہ فعال کرنے کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں۔
یہ کیوں ضروری ہے؟
پاکستان کا فلمی سنہری دور 1960 اور 1970 کی دہائی میں تھا، جب لالی ووڈ خطے میں ایک مضبوط صنعت کے طور پر ابھرا۔
مگر اب حالات بدل چکے ہیں —
سینما گھر بند ہو رہے ہیں، فلم ساز مالی مشکلات کا شکار ہیں، اور شائقین کی بڑی تعداد اب نیٹ فلکس، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز کا رخ کر چکی ہے۔
اداکار و پروڈیوسر میکال ذوالفقار نے کہا:
"ٹیلنٹ ہمارے پاس ہے، لیکن انفراسٹرکچر اور پالیسی سپورٹ کی کمی ہے۔ اگر حکومت سنجیدگی سے قدم اٹھائے تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔”
حکومت کے ترجیحی نکات
ابتدائی معلومات کے مطابق پالیسی کا دائرہ درج ذیل نکات پر مبنی ہوگا:
-
فلمی سرٹیفکیشن اور پروڈکشن منظوری کے نظام کو جدید بنانا
-
فلم سازوں اور سینما مالکان کے لیے مالی مراعات اور ٹیکس میں ریلیف
-
نوجوان فلم میکرز کے لیے تربیتی پروگرامز
-
پرانے سینما گھروں کی بحالی اور جدید طرز پر تزئین و آرائش
-
پاکستانی فلموں کو عالمی سطح پر پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے شراکت
چیلنجز برقرار ہیں
اگرچہ حکومتی نیت مثبت ہے، مگر ماہرین کے مطابق راستہ آسان نہیں۔
سرمایہ کاری کی کمی، فلموں کی محدود مارکیٹ، اور غیر جدید انفراسٹرکچر اب بھی بڑے رکاوٹیں ہیں۔
ملک کے زیادہ تر شہروں میں جدید سینما گھروں کی کمی ہے، جبکہ فلم پروڈکشن میں سرمایہ کاری کا خطرہ سرمایہ کاروں کو پیچھے ہٹا دیتا ہے۔
تاہم ایک امید افزا بات یہ ہے کہ حکومت اس بار سنجیدہ دکھائی دیتی ہے، اور پہلی بار مختلف وزارتوں کے درمیان واضح ہم آہنگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
آگے کا راستہ
حکومت آئندہ چند ماہ میں نئی فلم پالیسی کو حتمی شکل دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اگر یہ اقدامات مؤثر ثابت ہوئے تو پاکستان کا سنیما دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو سکتا ہے —
ایک ایسا سنیما جو صرف فلمیں نہیں دکھاتا بلکہ قوم کی کہانی سناتا ہے۔
آخرکار، سنیما صرف بڑی اسکرین پر دکھائی جانے والی کہانی نہیں،
بلکہ یہ اس قوم کی روح کی عکاسی ہے جو اپنے ماضی، حال اور مستقبل کو نئے زاویوں سے دیکھنا چاہتی ہے۔
