خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے دو علیحدہ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران بھارت کی پشت پناہی رکھنے والے گروہ ’فتنۃ الخوارج‘ سے وابستہ 23 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ یہ معلومات فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جاری کیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پہلی کارروائی 16 اور 17 نومبر کو باجوڑ میں اس وقت کی گئی جب علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی۔ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس سے 11 دہشت گرد مارے گئے، جن میں ان کا سرغنہ سجاد عرف ابوذر بھی شامل تھا۔
مزید بتایا گیا کہ بنوں میں کیے گئے ایک اور آپریشن میں 12 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، جو اسی نیٹ ورک سے تعلق رکھتے تھے۔
بیان کے مطابق علاقے میں اب بھی موجود کسی بھی دیگر غیر ملکی سرپرستی یافتہ دہشت گرد کی تلاش کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے اپنی کارروائیاں پوری قوت سے جاری رکھیں گے۔
دریں اثنا، بنوں ضلع میں ایک اور دہشت گرد اُس وقت ہلاک ہوگیا جب وہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے بارودی مواد نصب کر رہا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ واقعہ دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی مایوسی کا اظہار ہے، جو سیکیورٹی فورسز کے مسلسل دباؤ کے باعث آسان شہری اہداف کو نشانہ بنانے کی ناکام کوششوں پر اتر آئے ہیں۔
فوج کے مطابق کلیئرنس آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک علاقے میں موجود آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔
