سچائی جب اوجھل ہونے لگے
میں آج کی ڈیجیٹل دنیا کو بڑھتی ہوئی بے چینی کے ساتھ دیکھتی ہوں۔ ایسا دور ہے جہاں معلومات ہر جگہ موجود ہیں، لیکن سچائی سے زیادہ تیزی جھوٹ سفر کرتا ہے۔ جو پلیٹ فارم کبھی علم اور رابطے کے لیے بنائے گئے تھے، وہ اب گمراہ کن مواد، پراپیگنڈا اور جھوٹی خبروں کا گڑھ بنتے جا رہے ہیں۔
غلط معلومات اب محض ایک پریشانی نہیں رہیں بلکہ ایک عالمی وبا کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ یہ جمہوریت کو کمزور کرتی ہیں، معاشروں کو تقسیم کرتی ہیں اور پولرائزیشن کو ہوا دیتی ہیں۔ یہ عوامی رائے تشکیل دیتی ہیں، انتخابات پر اثرانداز ہوتی ہیں اور جدید جنگوں کو بھی بدل دیتی ہیں۔ حالیہ اسرائیل۔حماس تنازع میں بھی پراپیگنڈا اور غلط معلومات نے حقائق چھپانے اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
فلسفی سورن کیرکیگارڈ کا قول آج پہلے سے کہیں زیادہ سچ محسوس ہوتا ہے:
“انسان کو دھوکے میں رکھنے کے دو طریقے ہیں؛ ایک یہ کہ اسے جھوٹ پر یقین کرا دیا جائے اور دوسرا یہ کہ اسے سچ پر یقین نہ کرنے دیا جائے۔”
آج کے ماحول میں دونوں خطرات ہر جگہ موجود ہیں۔ آن لائن جھوٹ کے سیلاب میں حقیقت اور فریب میں فرق کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا مقصد انسانوں کو جوڑنا اور علم بانٹنا تھا، مگر اب اکثر الگورتھم سچائی کے مقابلے میں ’کلکس‘ کو ترجیح دیتے ہیں۔ مورخ یوال نوح ہراری کے مطابق، “غیر ضروری معلومات کے سمندر میں طاقت صرف وضاحت رکھنے والے کو ملتی ہے۔” لیکن آج وضاحت کمیاب ہے اور غلط معلومات حق اور جھوٹ کی لکیر کو دھندلا کر عوامی شعور کو مسخ کر دیتی ہیں۔
عالمی سیاست سے لے کر عوامی صحت تک، ڈس انفارمیشن کو طاقت، منافع اور کنٹرول کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ 2016 کے امریکی انتخابات، بریگزٹ ریفرنڈم، اور کورونا وبا کے دوران ویکسین سے متعلق افواہیں اس بات کی مثال ہیں کہ جھوٹی روایات لاکھوں لوگوں کو کس طرح متاثر کر سکتی ہیں۔ روس۔یوکرین جنگ اور اسرائیل۔حماس تنازع بھی ثابت کرتے ہیں کہ بعض اوقات جھوٹ اتنے ہی خطرناک ہوتے ہیں جتنی گولیاں۔
فلسفی ہنّا آرنٹ نے خبردار کیا تھا:
“آمریت کے لیے بہترین شکار وہ معاشرے ہوتے ہیں جہاں لوگوں میں حقیقت اور فسانے کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہو۔”
آج کے بعد از سچ دور میں ان کے الفاظ خطرناک حد تک سچ لگتے ہیں۔
غلط معلومات کے خلاف جدوجہد کے لیے عالمی تعاون، مضبوط صحافت، میڈیا لٹریسی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری ناگزیر ہے۔ شہریوں کو تنقیدی سوچ اپنانی چاہیے، آن لائن ملنے والی ہر بات پر سوال اٹھانا چاہیے اور معتبر ذرائع پر انحصار کرنا چاہیے۔ سچ کی جنگ صرف صحافیوں کی ذمہ داری نہیں یہ پورے معاشرے کی بقا کی جنگ ہے۔
ڈیجیٹل دور میں سب سے بڑا خطرہ ایٹمی جنگ یا موسمیاتی تبدیلی نہیں بلکہ جھوٹ کی خاموش وبا ہے۔ اگر سچ مر جائے تو اعتماد بھی مر جاتا ہے، اور اعتماد کے بغیر دنیا اپنے وجود کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔
