امریکا کے معروف امراضِ قلب کے ڈاکٹر دیمتری یارانوف نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ دل کی صحت کو محفوظ رکھنے کے لیے تجویز کردہ ادویات کھانے سے پہلے غور کریں۔
ڈاکٹر یارانوف کا کہنا ہے کہ میں نے خود دیکھا ہے کہ مختلف علاج میں استعمال ہونے والی کچھ عام ادویات وقت کے ساتھ ساتھ خاموشی سے دل کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، انہوں نے پانچ ادویات کے شواہد پیش کیے ہیں جن کے استعمال میں خاص احتیاط ضروری ہے اگر کوئی شخص دل اور خون کی نالیوں کی صحت کا خیال رکھتا ہو۔
سوزش کش ادویات:
جو افراد پہلے ہی ہائی بلڈ پریشر یا دل کے مسائل کا سامنا کررہے ہوں ان کے لیے خطرہ زیادہ ہوتا ہے لیکن جو بھی شخص باقاعدگی سے نان اسٹرئیڈل ینٹی انفلامیٹری ادویات استعمال کرتا ہے تو اسے محتاظ رہنے کی ضرورت ہے۔
ذیابیطس کی ادویات:
ذیابیطس کا علاج عام طور پر عمر بھر ادویات لینے پر مشتمل ہوتا ہے۔یارانوف کا کہنا ہے کہ کچھ پرانی نسل کی ذیابیطس ادویات جیسے روزِیگلیٹازون ،دل کے فیل ہونے کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ دل پر ان کے منفی اثرات کی وجہ سے بہت سے ماہرین اب نئی ادویات کی سفارش کرتے ہیں جو دل اور خون کی نالیوں کی صحت کو بہتر بناتی ہیں۔
ناک کھولنے والی ادویات:
نزلہ زکام اور الرجی تکلیف دہ بیماریاں ہیں، اسی لیے بہت سے لوگ بغیر نسخے کے ملنے والی ادویات کا استعمال کرتے ہیں، جن میں سڈوایفیڈرن جیسے ڈی کنجیسٹنٹ شامل ہوتے ہیں تاکہ بند ناک اور دیگر علامات میں کمی لائی جا سکے۔یہ ادویات خون کی نالیوں کو سکیڑ کر کام کرتی ہیں، جس سے رکاوٹ کم ہوتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بلڈ پریشر میں تیز اضافہ اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی بھی پیدا کر سکتی ہیں۔
کیموتھراپی کی ادویات:
اگرچہ کینسر کے علاج بے شمار زندگیوں کو بچاتے ہیں، لیکن کچھ کیموتھراپی ادویات جیسے ڈوکسوروبیسن اور ٹراسٹوزوماب دل پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
یارانوف کی وضاحت کے مطابق یہ ادویات وقت کے ساتھ دل کی عضلہ کو کمزور کر دیتی ہیں، جس سے دل کی خون پمپ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
محرک ادویات:
محرک ادویات جو عام طور پر توجہ کی کمی اور بیش فعالی (اے ڈی ایچ ڈی) کے علاج کے لیے تجویز کی جاتی ہیں،ان میں ایمفیٹامینز شامل ہوتے ہیں جو بیداری اور توجہ میں اضافہ کرتے ہیں۔لیکن یارانوف کا کہنا ہے کہ یہ ادویات دل کی دھڑکن تیز کر سکتی ہیں اور بلڈ پریشر بڑھا سکتی ہیں۔اگر کسی شخص کو پہلے سے دل کا مسئلہ ہو تو ان ادویات کا اثر انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ بے ترتیبیِ ضرباتِ قلب اور حتیٰ کہ دل کے دورے کے خطرے کو بھی بڑھا سکتی ہیں۔
اسی طرح محرکات کا غلط استعمال یا بغیر نگرانی کے استعمال شدید ضمنی اثرات کا باعث بن سکتا ہے، جیسے دل کی دھڑکن کا بے حد بڑھ جانا، ہائی بلڈ پریشر، بے چینی اور لت پڑ جانا۔
