بالی ووڈ اسٹار ہریتھک روشن نے دھُرندھر پر اپنی رائے دے کر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ فلم کی تعریف کرتے ہوئے جہاں انہوں نے اسے زبردست فلم سازی، زبردست پرفارمنسز اور کھینچ لینے والی کہانی کا نمونہ قرار دیا، وہیں ایک جملہ ایسا تھا جس نے سوشل میڈیا کو فوراً جاگتا ہوا دیکھ لیا:
وہ “اس کی سیاست سے شاید اتفاق نہیں کرتے۔”
ہریتھک نے انسٹاگرام پر ایک طویل نوٹ شیئر کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ کیسے فلم نے انہیں اس سینما کی یاد دلائی جو ناظر کو اپنے اندر کھینچ لیتا ہے۔ جذباتی، بھاری، مؤثر — سب تعریفیں کیں۔
مگر پھر انہوں نے شائستگی سے کہا کہ فلم کے سیاسی رنگ پر ان کے تحفظات ہیں، اور بطور فلم ساز “ذمہ داری” پر بھی سوالات ہیں۔
یہی جملہ تھا جو انٹرنیٹ نے پکڑ لیا۔
لوگوں نے کیوں کہا کہ بات ’مزے کی‘ ہے؟
بہت سارے صارفین نے فوراً اس طرف اشارہ کیا کہ ہریتھک خود فائیٹر، وار اور ایسی کئی فلموں میں کام کر چکے ہیں جنہیں اکثر قوم پرستی یا اسٹیٹ نیرٹیو کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
اسی لیے بہت سے لوگوں کو لگا کہ ہریتھک کا سیاسی سینما پر تبصرہ… تھوڑا سا آئیرونک ہے۔
ایک صارف نے لکھا:
“ہریتھک کا سیاسی سینما سے اختلاف ایسا ہی ہے جیسے مچھلی کہے کہ اسے پانی پسند نہیں۔”
دوسرے نے کہا:
“ٹھیک ہے، رائے ان کی اپنی ہے… مگر بات میں تضاد تو دکھا!”
ہریتھک نے اصل میں کیا کہا؟
ان کا جملہ یہ تھا:
“میں اس کی سیاست سے شاید اختلاف رکھتا ہوں، اور بحث کر سکتا ہوں کہ فلم سازوں پر بطور شہری کتنی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود، میں نے اس فلم سے بہت کچھ سیکھا اور خوب لطف اٹھایا۔”
یعنی انہوں نے فلم کی تعریف بھی کی، اور اپنے نظریاتی خدشات بھی واضح کیے۔
بعد میں ایک اور پوسٹ — تھوڑی فضا ہموار کرتی ہوئی
چند گھنٹوں بعد ہریتھک نے ایک اور پوسٹ ڈالی جس میں انہوں نے رنویر سنگھ، اکشے کھنہ اور پوری کاسٹ کی تعریف کی، اور کہا کہ انہیں دھُرندھر پارٹ 2 کا شدت سے انتظار ہے۔
اس سے بحث تو مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، مگر لہجہ کچھ نرم ضرور ہو گیا۔
یہ بات اہم کیوں ہے؟
دھُرندھر پہلے ہی سماجی اور سیاسی بحثوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ رش، تعریف، تنقید — سب کچھ مل کر یہ واضح کر رہے ہیں کہ یہ فلم عام تجارتی فلم نہیں رہی، بلکہ ایک بڑا ثقافتی واقعہ بن چکی ہے۔
ہریتھک روشن کی رائے بالکل اسی کشمکش کو ظاہر کرتی ہے:
کیا آپ ایک فلم کی فنکاری سے محبت کر سکتے ہیں، چاہے اس کی سیاست آپ کو نہ بھائے؟
انٹرنیٹ کے مطابق — جواب ہاں بھی ہے، نہیں بھی… اور بحث ابھی جاری ہے۔
