MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
Health

اینٹی بائیوٹکس کے نامکمل یا غیر ضروری استعمال سے متعلق تشویشناک انکشاف

Last updated: دسمبر 18, 2025 8:20 صبح
Neha Ashraf
Share
SHARE

اینٹی بائیوٹکس کے نامکمل یا غیر ضروری استعمال کے سبب پاکستان کے شہری اینٹی مائیکروبیل مزاحمت کے بڑھتے ہوئے خطرے کی لپیٹ میں ہیں۔

‎طبی ماہرین کے مطابق ملک میں ہر سال 2 سے 3 لاکھ افراد براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے انفیکشنز کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں،جبکہ آئی سی یوز میں بھی ایسے مریضوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جن کے انفیکشن ملٹی ڈرگ ریزسٹنٹ جراثیم کے سبب پھیلتے ہیں۔ڈاکٹرز خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عالمی ادارہ صحت کے اندازوں کے مطابق 2050 تک اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کے باعث دنیا بھر میں سالانہ ایک کروڑ تک اموات ہو سکتی ہیں۔

‎اس حوالے سے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی مالیکیولر پیتھالوجی لیبارٹری کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعید خان نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اینٹی مائیکروبیل مزاحمت (اے ایم آر) اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بیکٹیریا، وائرس، فنگس یا پیراسائٹس وقت کے ساتھ تبدیل ہو کر ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں انفیکشن کا علاج مشکل یا بعض اوقات ناممکن ہو جاتا ہے۔

‎ ان کا کہنا تھا کہ اینٹی مائیکروبیل مزاحمت ایک عالمی خطرہ ہے کیونکہ اس سے بیماری کا دورانیہ طویل ہوجاتا ہے، علاج کے اخراجات زیادہ بڑھ جاتے ہیں، علاج میں پیچیدگیاں اور اموات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ صورتحال سرجری، کیموتھراپی اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں کو بھی شدید خطرے میں ڈال رہی ہے۔

‎انہوں نے بتایا کہ ڈبلیو ایچ او کے اندازوں کے مطابق اگر اس مسئلے پر قابو نہ پایا گیا تو 2050 تک اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کے باعث دنیا بھر میں ہر سال ایک کروڑ اموات ہو سکتی ہیں۔

‎پروفیسر ڈاکٹر سعید خان کے مطابق پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جو اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات میں بغیر نسخے کے اینٹی بایوٹکس کا استعمال، ادویات کا نامکمل یا غیر ضروری استعمال، اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات، مویشیوں اور پولٹری میں اینٹی بایوٹکس کا بے جا استعمال اور کمزور نگرانی و رپورٹنگ نظام شامل ہیں۔

‎انہوں نے بتایا کہ کراچی کے بڑے اسپتالوں میں سب سے زیادہ مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا میں ایشیریشیا کولی، کلیبسئیلا نیومونیا، ایسینیٹوبیکٹر باؤمانی، پیسیوڈوموناس ایروجنوزا، میتھیسلن ریزسٹنٹ اسٹیفیلوکوکس اوریئس (ایم آر ایس اے) اور ایکس ڈی آر سالمونیلہ ٹائیفی شامل ہیں۔ یہ بیکٹیریا پیشاب کی نالی کے انفیکشنز، آئی سی یو انفیکشنز اور ٹائیفائیڈ جیسے امراض میں زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔فلو کے بعد بیکٹیریل نمونیا زیادہ مہلک ہو گیا ہے کیونکہ پہلی لائن اینٹی بایوٹکس اکثر بے اثر ہو جاتی ہیں، جس سے مؤثر علاج میں تاخیر اور بیماری کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ بچوں، بزرگوں اور کمزور مدافعت والے افراد میں اے ایم آر کا خطرہ زیادہ ہے۔

‎ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے اسپتالوں کے آئی سی یوز، نیونیٹل یونٹس، سرجیکل وارڈز، ٹی بی اور انفیکشن وارڈز میں ایم ڈی آر گرام نیگیٹو انفیکشنز اور ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔

‎ڈاکٹر سعید خان نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں تپِ دق (ٹی بی) کا بوجھ سب سے زیادہ ہے، جبکہ ملٹی ڈرگ ریزسٹنٹ اور ایکسٹینسیولی ڈرگ ریزسٹنٹ ٹی بی ایک ہنگامی مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے مریضوں کو 18 سے 24 ماہ تک طویل اور مہنگا علاج درکار ہوتا ہے، جبکہ علاج ناکام ہونے اور اموات کا خطرہ بھی نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔

‎انہوں نے بتایا کہ مختلف مطالعات کے مطابق ملک کے بڑے سرکاری و نجی اسپتالوں کے آئی سی یوز میں 40 سے 70 فیصد مریض ایسے انفیکشنز کا شکار ہوتے ہیں جو ملٹی ڈرگ ریزسٹنٹ جراثیم سے پھیلتے ہیں، جن میں زیادہ تر گرام نیگیٹو بیکٹیریا شامل ہوتے ہیں، جو علاج کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

‎مائیکروبیالوجسٹ ڈاکٹر سیدہ صدف اکبر نے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کے حوالے سے 204 ممالک میں 29 ویں مقام پر ہے،جبکہ مختلف ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں ہر سال اے ایم آر کے سبب 2 سے 3 لاکھ افراد براہ راست یا بالواسطہ طور پر جان سے جاتے ہیں۔اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کی شرح سالانہ بڑھ رہی ہے،ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں 5 سے 15 فیصد تک اضافہ تک اضافہ ہورہا ہے۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article اسموگ سے محفوظ رہنے کے آسان طریقے
Next Article جناح اسپتال کراچی کا مالی بحران: مریض پریشان
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
آنتوں کا کینسر 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر سے اموات کی بڑی وجہ
Health
مارچ 22, 2026
الٹرا پروسیسڈ فوڈز کا زیادہ استعمال ہارٹ اٹیک کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے، تحقیق
Health
مارچ 22, 2026
جسم میں پانی کی کمی سے کئی عوارض لاحق ہوسکتے ہیں، ماہرین صحت
Health
مارچ 22, 2026
تجربہ گاہ میں بنی کھانے کی نالی کی کامیاب پیوندکاری
Health
مارچ 22, 2026
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ڈاؤن سنڈروم ڈے منایا جا رہا ہے
Health
مارچ 21, 2026
خسرہ کی وبا سے 7 بچے دم توڑ گئے
Health
مارچ 21, 2026

You Might Also Like

Health

آپ کو عام نزلہ زکام ہے یا سپر فلو؟ دونوں میں فرق کرنے والی علامات کے بارے میں جانیں

By Neha Ashraf
Health

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا ہیلتھ سسٹم میں اصلاحات پر زور

By Fatima Nadeem
Health

پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں کینسر کے مریضوں کیلئے ادویات نایاب ہوگئیں

By Neha Ashraf
Health

خیبرپختونخوا میں پولیو کے دو نئے کیسز رپورٹ

By Neha Ashraf
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?