شہر قائد کا جناح اسپتال کہنے کو تو ملک کا سب سے بڑا سرکاری اسپتال ہے لیکن بدقسمتی سے ارباب اختیار کی عدم توجہی اور مجرمانہ غفلت کے سبب مریضوں کو ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہاں آنے والے مریض بے شمار بنیادی سہولیات سمیت ادویات سے بھی محروم ہیں لیکن ان کا کوئی پُرسان حال نہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسپتال انتظامیہ کو پیرا میڈیکل، نرسری اسٹاف اور فیکلٹی کی کمی کا سنگین مسئلہ درپیش ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ محکمہ صحت حکومت سندھ کی جانب سے میڈیکل افسران فراہم کیے جاچکے ہیں۔
اس کے علاوہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی جانب سے فیکلٹی بھی دی گئی ہے، اگر تقرریوں کی بات کی جائے تو اس حوالے سے صورتحال التوا کا شکار ہے جس کے سبب متعدد مسائل حل طلب ہیں۔
سرکاری اسپتال میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے فقدان کے سبب اسپتال میں زیرعلاج مریض بھی انتہائی ضروری ادویات بھی بازار سے خرید کر لانے پر مجبور ہیں۔
جناح اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وقاص خان نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت اسپتال کو اسٹاف کی کمی کو پورا کرنے کیلیے 2 ہزار افراد درکار ہیں۔
اسپتال کو ملنے والے فنڈز اور اسٹاف کی کمی سے متعلق انہوں نے کہا کہ فنڈز سے متعلق کچھ عدالتی معاملات ہیں اور اس کے علاوہ جو ملازمتیں کنٹریکٹ پر تھیں اس حوالے سے بھی عدالت سے حکم امتناعی آگیا، اور ایک وجہ یہ بھی ہیں کہ جو پہلے سے سرکاری ملازمین موجود ہیں وہ اپنی مقررہ مدت تک ریٹائرڈ ہوچکے ہیں اور ان کا متبادل بھی نہیں ہے۔
