کراچی میں موسم کا مزاج بدلنے کو ہے، محکمہ موسمیات نے 16 سے 20 جون تک شہر میں گرد آلود ہواؤں اور کہیں کہیں بارش کی پیشگوئی کر دی ہے۔
یہ موسمی تبدیلی ایک طویل اور شدید گرمی کی لہر کے بعد آ رہی ہے، جس نے رواں ہفتے شہر کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچا دیا تھا۔ اگرچہ یہ نیا سلسلہ حبس زدہ گرمی سے وقتی نجات کا باعث بنے گا، تاہم ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ موسم کی یہ کروٹ پرسکون نہیں ہوگی۔
اتوار سے شہر میں تیز گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان ہے، جو مقامی سطح پر بارش کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، بارش کا یہ سلسلہ موسلا دھار نہیں بلکہ وقفے وقفے سے بوندا باندی کی صورت میں ہوگا۔
شہر کے کمزور شہری انفراسٹرکچر کے پیش نظر یہ پیشگوئی تشویش کا باعث ہے۔ گرد آلود طوفان اکثر بجلی کے ترسیلی نظام میں خلل اور ٹریفک کی روانی متاثر کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ شاہراہِ فیصل اور سپر ہائی وے جیسے اہم راستوں پر تیز ہواؤں کے دوران گاڑی چلانا حادثات کو دعوت دے سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ایک سینئر عہدیدار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "یہ سسٹم شمال مغرب سے داخل ہو رہا ہے۔ ہوا کی رفتار 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ چھتوں پر موجود ہلکی اشیاء کو محفوظ کر لیں اور طوفان کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔”
تازہ ترین ایڈوائزری کے مطابق، بارش کی شدت ہلکی سے درمیانی رہے گی، جس سے اربن فلڈنگ کا خطرہ تو نہیں، البتہ درجہ حرارت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ یہ تبدیلی سندھ میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری شدید گرمی کے ستائے شہریوں کے لیے کسی ریلیف سے کم نہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر ہسپتالوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، کیونکہ گرد کے ذرات سانس اور آنکھوں کے امراض میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری جانب، ہنگامی ریسکیو ٹیمیں کے الیکٹرک کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ تیز ہواؤں کے باعث بجلی کے کھمبوں یا تاروں کے گرنے سے ہونے والے نقصانات کو فوری سنبھالا جا سکے۔
پانچ روزہ اس موسمی تبدیلی کے دوران اصل چیلنج بارش کا حجم نہیں بلکہ ہواؤں کی شدت ہے۔ اگر یہ سسٹم اپنی موجودہ رفتار برقرار رکھتا ہے تو جمعہ تک درجہ حرارت میں استحکام آ جائے گا، تاہم حبس کا سلسلہ ہفتے کے اختتام تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
