لاہور کے ایک فٹ پاتھ پر لگے چھوٹے سے فوڈ اسٹال کے گرد کھڑی ضلعی انتظامیہ کی ٹیم نے جب طاہرہ حبیب جالب کو اپنا کام سمیٹنے کا حکم دیا، تو وہ صرف ایک تجاوزات کے خلاف آپریشن نہیں تھا؛ یہ اس نظام کی بے حسی کا ایک اور ثبوت تھا جس کے خلاف ان کے والد، حبیب جالب، ساری عمر لڑتے رہے۔
طاہرہ جالب، جو اپنے والد کی انقلابی شاعری کی امین ہیں، اپنے گھر کا خرچ چلانے کے لیے ایک چھوٹا سا فوڈ اسٹال چلاتی تھیں۔ لیکن انتظامیہ کے لیے یہ ایک ‘تجاوزات’ سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ حکام نے فٹ پاتھ خالی کرانے کے نام پر ان کا روزگار بند کر دیا، یہ سوچے بغیر کہ جس شخص کی شاعری آج بھی سرکاری تقریبات میں پڑھ کر داد سمیٹی جاتی ہے، اس کے اپنے گھر کے چراغ کیسے جلیں گے۔
طاہرہ نے اس واقعے پر تلخ لہجے میں کہا، "سرکاری تقریبات میں میرے والد کا نام لے کر داد وصول کی جاتی ہے، مگر جب ان کی اولاد کی عزتِ نفس اور روزگار کا معاملہ آتا ہے، تو تمام راستے بند کر دیے جاتے ہیں۔”
انتظامیہ کا موقف ہمیشہ کی طرح وہی روایتی ہے: فٹ پاتھ پر رکاوٹ اور تجاوزات۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کے پاس ایک ایسی خاتون کے لیے کوئی متبادل جگہ نہیں تھی جس کے والد نے ملک کے سیاسی شعور کو جگانے کے لیے اپنی پوری زندگی جیلوں میں گزار دی؟
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر ایک بحث چھیڑ چکا ہے۔ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا پاکستان میں صرف غریب اور عام آدمی ہی قانون کی سختی کا سامنا کرنے کے لیے پیدا ہوا ہے؟ ایک طرف حبیب جالب کی شاعری کو ‘قومی ورثہ’ قرار دیا جاتا ہے، دوسری طرف ان کی بیٹی کو اسی شہر میں دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے سرکاری ڈنڈے کا سامنا ہے۔
اب تک انتظامیہ کی جانب سے کوئی متبادل تجویز سامنے نہیں آئی۔ طاہرہ جالب کا اسٹال بند ہو چکا ہے، لیکن یہ خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک فوڈ اسٹال کے بند ہونے کی کہانی نہیں، بلکہ اس نظام کی تصویر ہے جو نظریات کو تو پوجتا ہے، مگر ان نظریات کے وارثوں کو سڑک پر کھڑا کر دیتا ہے۔
