ستاروں کی تخلیق اب تک ایک ایسا معمہ رہی ہے جسے کائناتی گرد اور گیس کے بادلوں نے چھپا رکھا تھا۔ اب سائنسدانوں نے ایک ایسا جدید آلہ تیار کر لیا ہے جو ان بادلوں کے آر پار دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی صرف ستاروں کی تصویر نہیں لے گی، بلکہ ان مقناطیسی میدانوں کو بھی بے نقاب کرے گی جو ستاروں کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اس آلے کو "ہائی ریزولوشن اسپیکٹرو پولری میٹر” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گیس کے ان گھنے بادلوں کے اندر موجود مقناطیسی لہروں کو ماپنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں نئے ستارے جنم لیتے ہیں۔ ماضی میں دوربینیں ان بادلوں کی بیرونی سطح تک تو پہنچ جاتی تھیں، لیکن اندرونی ہلچل ہمیشہ ایک بند ڈبے کی طرح پوشیدہ تھی۔
یورپی سدرن آبزرویٹری کی ماہر فلکیات ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں: "ہم برسوں سے ایک ڈھول کی اوپری سطح کو دیکھ رہے تھے۔ اب ہمارے پاس وہ ٹولز ہیں جن سے ہم دیکھ سکیں گے کہ اس ڈھول کے اندر اصل میں کیا ہو رہا ہے۔”
اس تحقیق کی اہمیت محض تجسس تک محدود نہیں ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کچھ نظامِ شمسی زمین جیسے پتھریلے سیاروں کو کیوں جنم دیتے ہیں، جبکہ کچھ گیس کے دیو ہیکل گولوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ستاروں کی پیدائش کے دوران مقناطیسی تلاطم کا درست ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے فلکیات کے موجودہ ماڈلز اکثر ادھورے رہتے تھے۔ یہ نیا آلہ اسی خلا کو پُر کرے گا۔
اس ٹیکنالوجی کی ایک خاص بات اس کا ریئل ٹائم ڈیٹا پروسیسنگ سسٹم ہے۔ اسے تصویریں کھینچ کر بعد میں تجزیہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ ستاروں کے ماحول کا ایک مکمل ڈھانچہ اسی وقت تیار کر لیتا ہے جب وہ گیس کے بادلوں سے تشکیل پا رہے ہوتے ہیں۔
اگرچہ اس منصوبے پر آنے والی بھاری لاگت پر کچھ حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے ہیں، لیکن سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کائنات میں زندگی کے لیے سازگار حالات کو سمجھنے کے لیے اس سطح کی باریک بینی کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔
آئندہ برس کے آخر میں اس آلے کی پہلی آزمائش متوقع ہے۔ اگر تجربات کامیاب رہے تو اورائن نیبولا اور دیگر ستاروں کے جھرمٹوں کا منظر بدل جائے گا۔ اب ہم صرف ستاروں کو دیکھیں گے نہیں، بلکہ کائنات کی اس گھڑی کو چلتے ہوئے دیکھیں گے جو ستارے تخلیق کرتی ہے۔
