فلپائن کے جزیرے جولو کے قریب مسافر بردار کشتی ‘ایم وی لیڈی میری جوئے 3’ میں لگنے والی آگ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 76 ہوگئی ہے۔ ساحلی محافظوں کے مطابق، امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں لیکن ملبے سے مزید زندہ بچ جانے والوں کی بازیابی کی امید معدوم ہوتی جا رہی ہے۔
یہ حادثہ بدھ کی رات اس وقت پیش آیا جب کشتی سولو سمندر میں سفر کر رہی تھی۔ آگ اس وقت بھڑکی جب زیادہ تر مسافر اپنی کیبنز میں سو رہے تھے۔ زندہ بچ جانے والوں نے خوفناک مناظر کی عکاسی کرتے ہوئے بتایا کہ دھویں کے بادلوں نے چند لمحوں میں پوری کشتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے بعد مسافروں میں افراتفری مچ گئی۔
ایک بچ جانے والے مسافر نے بتایا کہ "ہمیں کوئی الارم سنائی نہیں دیا، صرف گرمی کا احساس ہوا اور چیخ و پکار گونج رہی تھی۔ جب تک ہم ڈیک تک پہنچے، آگ بے قابو ہو چکی تھی۔”
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کشتی میں مسافروں کی تعداد گنجائش سے زیادہ نہیں تھی، تاہم آگ کے تیزی سے پھیلنے کے واقعات نے حفاظتی اقدامات پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا آگ بجھانے کا نظام فعال تھا یا نہیں۔ کیپٹن اور عملے سے پوچھ گچھ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ غفلت کہاں برتی گئی۔
فلپائن میں سمندری سفر کا انحصار بڑی حد تک پرانی کشتیوں پر ہے، اور حفاظتی معیار کی کمی کے باعث اس طرح کے حادثات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ جزائر پر مشتمل اس ملک میں چھوٹی کشتیوں کا نیٹ ورک عوامی نقل و حمل کا اہم ذریعہ ہے، مگر ناقص دیکھ بھال اکثر اسے موت کا پھندا بنا دیتی ہے۔
ساحلی حکام کا کہنا ہے کہ سمندر میں موسم کی خرابی امدادی کاموں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ جولو کی بندرگاہ پر سوگوار خاندان اپنے پیاروں کی لاشوں کی شناخت کے منتظر ہیں، جبکہ حکومت نے اس سانحے کی مکمل تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم، ان خاندانوں کے لیے یہ تحقیقات اپنے پیاروں کو واپس نہیں لا سکتیں۔
توقع ہے کہ تلاش کا کام اگلے 48 گھنٹوں تک جاری رہے گا، جس کے بعد لاپتہ افراد کی حتمی تعداد اور شناخت کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
