ویلز کے ساحل پر دریافت ہونے والے معدوم شدہ مچھلی کے دانتوں نے ماہرینِ حیاتیات کے برسوں پرانے الجھن کو ختم کر دیا ہے۔ یہ دریافت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ دانت ‘سائیکلوڈس’ نہیں بلکہ ایک قدیم اور نایاب نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جس نے کرہ ارض پر حیات کے ارتقائی سفر کے ایک اہم حصے کو واضح کر دیا ہے۔
ماہرین طویل عرصے سے ان دانتوں کی درجہ بندی کرنے میں ناکام تھے۔ ساحل پر بکھرے ہوئے یہ چھوٹے ٹکڑے کئی دہائیوں تک سائنسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنے رہے، کیونکہ ان کی ساخت جدید مچھلیوں سے مشابہت رکھتی تھی لیکن عمر ٹرائیسک دور کی تھی۔
برسٹل یونیورسٹی کے ماہرین کی ٹیم نے جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے ان فوسلز کا دوبارہ تجزیہ کیا۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ یہ دانت دراصل ‘لچتھائوسورس’ کے ارتقاء کے ابتدائی مراحل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ سمندری حیات ڈائنوسار کے دور میں سمندروں پر راج کرتی تھی۔
یہ دریافت اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ سمندری حیات نے بڑے پیمانے پر معدومیت کے بعد خود کو کیسے ڈھالا۔ 200 ملین سال پہلے کے اس دور میں سمندری ماحول میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی تھیں، اور یہ دانت ان تبدیلیوں کے زندہ ثبوت ہیں۔
تحقیق میں شامل ایک ماہر نے بتایا کہ ان دانتوں کی بناوٹ اس وقت کے سمندری شکاریوں کی خوراک اور ان کے شکار کرنے کے طریقوں پر گہری روشنی ڈالتی ہے۔ یہ صرف ایک پرانا فوسل نہیں، بلکہ ایک ایسی کھڑکی ہے جو ہمیں لاکھوں سال پرانے سمندری نظامِ زندگی کو دیکھنے کا موقع دیتی ہے۔
اب تک سائنسدانوں کے پاس یہ ماننے کی ٹھوس وجہ نہیں تھی کہ یہ دانت کس نسل کے ہیں۔ لیکن ویلز کے ساحل سے ملنے والے اس ٹھوس ثبوت نے تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ دریافت واضح کرتی ہے کہ ویلز کا ساحلی علاقہ قدیم حیات کے مطالعے کے لیے کتنا اہم ہے۔ اب ماہرین کی توجہ اس بات پر ہے کہ اسی دور کے مزید فوسلز دریافت کیے جائیں تاکہ اس قدیم سمندری حیات کے مکمل خاکہ کو ترتیب دیا جا سکے۔
