وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں آئینی تقاضے پورے ہونے کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئین میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا طریقہ کار موجود ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
یہ پیش رفت وفاقی اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان سکیورٹی، امن و امان اور انتظامی معاملات پر جاری اختلافات کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ صوبائی حکومت اپنے مؤقف پر قائم ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق فی الحال ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور سیاسی سطح پر صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مشاورت جاری ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کی حکومت نے ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مؤقف کا اظہار کیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال بھی اس معاملے کا اہم پہلو ہے۔ وفاقی حکومت نے حال ہی میں صوبے کے متعدد اضلاع کو سکیورٹی خطرات کے باعث حساس قرار دیا ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی وفاق اور صوبے کے درمیان اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔
صورتحال میں سیاسی کشیدگی اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی منصوبہ بندی بھی زیرِ بحث رہی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے آئینی آپشنز کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے ایسے کسی اقدام کی مخالفت کی ہے۔
فی الحال اہم بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے امکان کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ آئندہ سیاسی مشاورت، سکیورٹی صورتحال اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان رابطوں سے معاملے کی مزید سمت واضح ہونے کی توقع ہے۔
