تحریر: حمنہ اقبال بیگ اور فیصل رحمان :
جولائی 2025
کراچی:
پاکستان میں موسمِ گرما اب صرف گرم نہیں، جان لیوا بن چکا ہے — اور اس کی سب سے خاموش مگر خطرناک مار اُن حاملہ خواتین پر پڑ رہی ہے جو کم آمدنی والے علاقوں میں رہتی ہیں۔ لیاری جیسے گنجان اور بے ہَوا محلّوں میں، جہاں بجلی کا آنا جانا معمول ہے اور ٹھنڈک کا کوئی ذریعہ نہیں، وہاں مائیں حمل ضائع کر رہی ہیں اکثر بغیر کسی انتباہ کے، اور ادارہ جاتی مدد کے بغیر۔
29 سالہ سمیرا، جنہوں نے رواں سال جنوری میں آٹھویں ماہ میں اپنا پہلا بچہ کھویا، اب بھی صدمے میں ہیں۔ "ڈاکٹر نے کہا شاید گرمی اور پانی کی کمی وجہ بنی ہو۔ مجھے لگا جیسے میں ناکام ہوئی ہوں،” وہ روتے ہوئے بتاتی ہیں۔ ان کا فلیٹ چوتھی منزل پر ہے، جو دن کے وقت بھٹی بن جاتا ہے۔
اور وہ اکیلی نہیں۔ 2024 کے ایک عالمی مطالعے کے مطابق، شدید گرمی سے اسقاطِ حمل اور مردہ پیدائش کا خطرہ 13 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں یہ خطرہ غربت، ناقص بنیادی سہولیات اور بلند نمی کے سبب دوگنا ہو جاتا ہے۔ محققین کہتے ہیں کہ ہر 1 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے پر قبل از وقت پیدائش کا امکان 4 فیصد بڑھ جاتا ہے۔
32 سالہ ناہیدہ نے نومبر 2024 میں حمل کے آٹھویں مہینے میں ایمرجنسی میں بچے کو جنم دیا۔ جناح اسپتال کے ڈاکٹروں نے فوری آپریشن کیا۔ "انہوں نے کہا گرمی نے میرے جسم پر دباؤ ڈالا، اور بچہ متاثر ہو رہا تھا۔ میں خطرہ مول نہیں لے سکتی تھی،” وہ بتاتی ہیں۔
لیاری کے رہائشیوں کے مطابق، روزانہ 10 سے 12 گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔ نہ پنکھا، نہ کولر، نہ اے سی۔ "سورج ڈوبنے کے بعد بھی کمرے میں گرمی بند رہتی ہے،” شرمین نے کہا، جو غیر متوقع تکلیف کے دوران تنہا باتھ روم میں بچے کو جنم دینے پر مجبور ہوئیں۔
ڈاکٹر جایا شری دھر، جو چنئی میں ڈاکٹر اور صحافی ہیں، کہتی ہیں کہ شدید گرمی جسمانی درجہ حرارت بڑھاتی ہے، جس سے قبل از وقت دردِ زِہ یا اسقاطِ حمل ہو سکتا ہے۔ "یہ جنین کی دھڑکن بڑھاتی ہے، پلاسنٹا میں خون کی روانی گھٹاتی ہے، اور ڈی ہائیڈریشن سے جنین کو غذائی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے،” وہ وضاحت کرتی ہیں۔
مسئلہ صرف طبی نہیں شہر کا ڈیزائن بھی خطرہ ہے۔ لیاری کے کنکریٹ کے ڈھانچے، جن میں ہوا نہیں چلتی، شہری حرارتی جزیرہ (Urban Heat Island) بن چکے ہیں۔ یہاں تقریباً دس لاکھ افراد رہتے ہیں، جن میں بیشتر خواتین گھر کے کام، باورچی خانے کی گرمی، اور رکشہ میں کلینک جانے جیسے کاموں کے دوران براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔
35 سالہ انیتا کہتی ہیں، "باورچی خانے میں سانس لینا مشکل ہو جاتا تھا۔ مجھے بار بار باہر نکلنا پڑتا تاکہ دم لے سکوں۔” فائزہ، جنہوں نے فروری 2025 میں صحت مند بچہ جنم دیا، آج بھی کمزوری اور کم بلڈ پریشر کے وہ دن یاد کرتی ہیں۔ "میں فرش پر پانی گرا کر، کھڑکی کے قریب بیٹھ کر سونے کی کوشش کرتی تھی۔”
کئی خواتین نے بتایا کہ انہیں ڈاکٹروں سے گرمی کے خطرے کی وارننگ ملی، مگر ان کے پاس ٹھنڈک کا کوئی مؤثر ذریعہ نہیں تھا۔ گیلا کپڑا، بار بار نہانا، لیموں پانی سب عارضی حل تھے۔
ثمرین، جنہوں نے فروری میں بچے کو محفوظ طریقے سے جنم دیا، کہتی ہیں کہ گرمی نے ان کی نیند، سانس اور دماغ پر حملہ کیا۔ "گرمی والے دنوں میں بچہ حرکت کرنا بند کر دیتا تھا۔ میری جان نکل جاتی تھی۔”
پاکستان کا پبلک ہیلتھ نظام اب تک حاملہ خواتین پر گرمی کے اثرات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔ ڈاکٹروں کی تنبیہات کے باوجود، کوئی واضح قومی پالیسی موجود نہیں جو گرمی میں ماؤں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
موسمیاتی تبدیلی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے، تو سمیرا جیسی ہزاروں مائیں خاموش، مگر ناقابلِ تلافی نقصانات اٹھاتی رہیں گی۔
