برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کے جوہری پروگرام پر بڑھتی تشویش کے بعد اس کے خلاف اسنیپ بیک پابندیوں کی واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔ یورپی ممالک کے اس فیصلے کو ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا اور اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
ان ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران 2015 کے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اس کے اقدامات خطے اور دنیا کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ برسلز میں مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ایران نے بارہا دی گئی یقین دہانیوں کے باوجود اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے انکار کیا ہے، جس پر اسنیپ بیک میکانزم کے تحت دوبارہ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
ایران کی جانب سے ابھی تک باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم تہران ماضی میں اس طرح کے اقدامات کو ’’غیر قانونی‘‘ اور ’’یکطرفہ دباؤ‘‘ قرار دیتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھائے گا بلکہ خطے میں سفارتی تناؤ کو بھی مزید گہرا کرے گا۔
یاد رہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت ایران پر سے کئی اقتصادی پابندیاں ہٹائی گئی تھیں، بشرطیکہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرے۔ تاہم حالیہ برسوں میں معاہدے کی خلاف ورزیوں اور امریکہ کی جانب سے دستبرداری کے بعد یہ معاہدہ شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان مذاکرات بحال نہ ہوئے تو یہ فیصلہ خطے میں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
