صوبہ سندھ میں 174,000 سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ PDMA نے یہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔
پنجاب میں شدید موسمی بارشوں کی گیارہویں لہر متوقع ہے، خاص طور پر راولپنڈی، مری، چکوال وغیرہ میں، بارش کی ممکنہ شدت سے ندی نالے، اسٹریمز اور نشیبی علاقوں میں خطرہ ہو سکتا ہے۔
پنجاب میں دریاؤں کا بہاؤ کم ہونا شروع ہو گیا ہے، پانی کی سطح معمول کی سطح کی طرف جا رہی ہے، لیکن کئی مقامات پر بندشیں اب بھی برقرار ہیں۔
پنجاب حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے خیمہ بستیاں قائم کی ہیں، راشن اور دَودھ وغیرہ کی فراہمی کی جا رہی ہے۔
محکمہ صحت نے ڈینگی کے مریضوں کے بڑھتے خطرے کی روشنی میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، خاص طور پر کیمپوں میں پانی اور مچھر سے بچاؤ کے انتظامات ۔
بارشیں پورے پاکستان میں ہوں رہی ہیں، کئی علاقوں میں مون سون کی بارشیں متواتر جاری ہیں۔
ندی نالوں، دریاؤں کے کناروں اور نشیبی علاقوں میں گلو فلوڈ (glacial outburst floods) کا خدشہ ہے، خاص طور پر شمالی علاقوں جیسے چترال، سوات، کوہستان وغیرہ میں۔
ممکنہ اثرات اور خبرداریاں
ممکنہ بارشوں کے باعث ندی نالوں اور چھوٹے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے، جس سے سیلابی صورتحال مزید گمبھیر ہو سکتی ہے۔
صحت کے شعبے پر دباؤ — پانی کی آلودگی، مچھر بولنے والی بیماریاں، اور دیگر وبائیں جن کے امکانات ہیں۔
