لاہور سے پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم پیر 23 ستمبر کو آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ 2025 میں شرکت کے لیے سری لنکا روانہ ہوگئی۔ کھلاڑیوں کے عزم اور جوش و خروش کے ساتھ شائقین کی نظریں بھی اب ٹیم کی کارکردگی پر جمی ہوئی ہیں۔
ٹورنامنٹ شروع ہونے سے قبل پاکستان دو وارم اپ میچ کھیلے گی — پہلا سری لنکا کے خلاف اور دوسرا جنوبی افریقہ کے ساتھ۔ گرین شرٹس اپنی ورلڈ کپ مہم کا آغاز 2 اکتوبر کو بنگلہ دیش کے خلاف کریں گی، جہاں فتح ان کے اعتماد کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
کڑا امتحان آگے
پاکستان کو ایسے گروپ میں رکھا گیا ہے جہاں دنیا کی سب سے مضبوط ٹیمیں شامل ہیں: بھارت، آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور میزبان سری لنکا۔ ہیڈ کوچ محمد وسیم کے مطابق، حالیہ ہوم سیریز میں جنوبی افریقہ کے خلاف مختلف کمبی نیشنز آزمانا اصل مقصد تھا، تاکہ ورلڈ کپ سے پہلے ٹیم کو بہتر تیار کیا جاسکے۔
وسیم نے کہا: “ہم نے کھلاڑیوں کو مختلف کرداروں میں آزمایا، اور اس سے ہمیں بہت وضاحت ملی۔ سیریز کا اصل فائدہ یہی تھا۔” یاد رہے کہ پاکستان یہ سیریز 2-1 سے ہارا، لیکن آخری ون ڈے میں کامیابی ٹیم کے حوصلے بلند کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئی۔
قیادت اور اسکواڈ
اس بار ٹیم کی قیادت آل راؤنڈر فاطمہ ثناء کے سپرد ہے جبکہ مونیبہ علی صدیقی نائب کپتان ہوں گی۔ 15 رکنی اسکواڈ میں سینئر اور نوجوان کھلاڑیوں کا امتزاج شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو یقین ہے کہ یہ کمبی نیشن سری لنکن کنڈیشنز، خاص طور پر اسپن وکٹوں پر، اچھا کھیل پیش کرے گا۔
امیدیں اور امکانات
ورلڈ کپ میں پاکستان کا سفر آسان نہیں ہوگا، مگر کھلاڑی پرعزم ہیں کہ بنگلہ دیش کے خلاف ابتدائی میچ جیت کر وہ اچھا آغاز کرسکتے ہیں۔ فتح کی صورت میں ٹیم کو نہ صرف اعتماد ملے گا بلکہ بڑے حریفوں کے خلاف کھیلنے کے لیے درکار رفتار بھی حاصل ہوگی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا گرین شرٹس اس عالمی ایونٹ میں سرپرائز دے پاتی ہیں یا نہیں، لیکن ایک بات طے ہے کہ شائقین پاکستان ویمنز ٹیم کی بھرپور حمایت کریں گے۔
