اکتوبر 28، 2025
ویب ڈیسک
کولوراڈو اسپرنگز کی ایک عیسائی طالبہ نے الزام لگایا ہے کہ اس کے اسکول نے مذہبی اظہار پر پابندی لگا کر اس کی آئینی آزادیوں کی خلاف ورزی کی۔ ریمپارٹ ہائی اسکول کی طالبہ، صوفیہ شو میکر، نے اپنی سینئر پارکنگ اسپیس پر ایک چرواہے، ایک بھیڑ، اور بائبل کی آیت "1 کرنتھیوں 13:4” پینٹ کرنے کی اجازت مانگی تھی، مگر اسکول انتظامیہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مذہبی یا سیاسی پیغام دینا قواعد کے خلاف ہے۔
مذہبی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیم فرسٹ لبرٹی انسٹیٹیوٹ نے صوفیہ کی جانب سے اسکول اور ضلع انتظامیہ کو ایک قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صوفیہ کے پہلی ترمیم (First Amendment) کے تحت حاصل مذہبی آزادی اور اظہارِ رائے کے حق کی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر جب ضلع کے دیگر اسکول اسی طرح کے مذہبی ڈیزائنز کی اجازت دیتے ہیں۔
صوفیہ نے بعد میں صرف بائبل کی آیت کا حوالہ لکھنے کی اجازت مانگی، مگر اسے بتایا گیا کہ یہ ڈیزائن بھی ممکنہ طور پر منظور نہیں کیا جائے گا۔ اس خوف سے کہ کہیں اس کی پارکنگ اسپیس ہی منسوخ نہ ہو جائے، اس نے ایک غیر مذہبی ڈیزائن بنا دیا — تاہم بعد میں قانونی مدد حاصل کر کے انصاف کی کوشش شروع کی۔
فرسٹ لبرٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اسکول 31 اکتوبر 2025 تک صوفیہ کو اس کا اصل مذہبی ڈیزائن دوبارہ پینٹ کرنے کی اجازت دے اور مذہبی پیغام پر پابندی عائد کرنے والی پالیسی واپس لے۔ اسکول ڈسٹرکٹ نے تصدیق کی ہے کہ وہ شکایت کا جائزہ لے رہا ہے، مگر تاحال کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا
