ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت نے پبلک سیکٹر کے ذریعے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ نے تصدیق کی ہے کہ تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور فوری درآمد کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ اس بار درآمد کا عمل پچھلے برسوں کے مقابلے میں زیادہ شفاف اور مؤثر ہوگا، جہاں ماضی میں مصنوعی قلت پیدا کرکے سبسڈی کو جواز بنایا جاتا رہا۔
دسمبر 2024 میں چینی کی ایکس مل قیمت 125 سے 130 روپے فی کلو تھی، جو اب بڑھ کر کراچی میں 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ لاہور اور کوئٹہ میں قیمتیں 190 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہیں، جہاں بالترتیب 6 اور 5 روپے فی کلو کا حالیہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تاجروں نے حکومت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ چینی کی برآمد کی اجازت ملنے کے بعد قیمتوں میں استحکام رہے گا، اور 2025 میں درآمد کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ لیکن ان وعدوں کے برعکس حکومت کو اب درآمد کا فیصلہ دباؤ میں آکر کرنا پڑا۔
وفاقی وزیر خوراک رانا تنویر حسین نے مل مالکان کی غیر سنجیدگی اور سپلائی چین کی ناکامی کو قیمتوں کے عدم استحکام کا سبب قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ "چینی کی قیمتوں میں اضافہ صرف گھریلو سطح پر اثر نہیں ڈال رہا، بلکہ دیگر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے، جس سے عوام پر مزید بوجھ بڑھا ہے”۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسی میں یہ یو ٹرن خود اس کی اپنی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے، کیونکہ برآمدات کی اجازت ایسے وقت میں دی گئی جب ملکی ذخائر پہلے ہی دباؤ میں تھے۔
