لاہور
پیر کے روز پنجاب بھر میں موسلا دھار مون سون بارشوں نے نظامِ زندگی کو مفلوج کر دیا، جس کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ متعدد شہروں میں شہری زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔
لاہور میں شدید بارش نے بڑے راستوں کو ندی نالوں میں بدل دیا، نکاسی آب کا نظام ناکام اور بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔
ریسکیو ذرائع اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق، مختلف شہروں میں موسمی حادثات جن میں چھتیں گرنے اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات شامل ہیں، کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔
منچن آباد میں ایک مدرسے کی چھت گرنے سے دو بچے، آٹھ سالہ سلام اور دس سالہ سیف اللہ جاں بحق ہو گئے، جبکہ بارہ دیگر طلبہ اور ایک استاد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا۔
اوکاڑہ میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک لڑکی سمیت دو افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ایک شخص شدید زخمی ہوا۔ ضلع قصور کے علاقے حویلی ناتھو والی میں بھی ایک خستہ حال مکان کی چھت گر گئی، جس سے 42 سالہ عمری بی بی جاں بحق اور دو افراد زخمی ہو گئے۔
لاہور میں بارش کے باعث نشتر ٹاؤن میں 182 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔ ٹاؤن شپ، گلبرگ، کنال روڈ، ہربنس پورہ، اور شادمان جیسے علاقے شدید پانی میں ڈوب گئے۔ سیوریج کا نظام مکمل طور پر ناکام رہا۔
بجلی کا نظام بھی دھڑام سے بیٹھ گیا۔ لیسکو کے مطابق، 142 فیڈرز ٹرپ کر گئے جس سے شہر کے متعدد علاقے جیسا کہ شالیمار، مغلپورہ، ماڈل ٹاؤن، اور کچی آبادیاں دن بھر بجلی سے محروم رہے۔
اس خراب موسم نے گرمی سے کچھ راحت ضرور دی۔ لاہور کا درجہ حرارت کم ہو کر کم از کم 27 اور زیادہ سے زیادہ 33 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو گزشتہ ہفتوں کی نسبت گرمی میں خاصی کمی باعث ہے۔
لاہور کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی طوفانی بارشوں نے تباہی مچائی۔ ڈیرہ غازی خان، ساہیوال، گوجرانوالہ اور بہاولپور کے نچلے علاقے زیرِ آب آ گئے۔ تونسہ میں کوہِ سلیمان سے بہنے والا سیلابی پانی دیہی بستیوں میں داخل ہو گیا، جہاں 20 سے زائد غیر رسمی آبادیاں متاثر ہوئیں اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف شہروں میں درج ذیل بارش ریکارڈ کی گئی: اوکاڑہ 72 ملی میٹر، ساہیوال 66 ملی میٹر، ڈی جی خان 51 ملی میٹر، اور بہاولپور 36 ملی میٹر۔ گجرات، حافظ آباد اور دیگر علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، 17 جولائی تک پنجاب میں مزید بارشوں کی پیشگوئی ہے، خصوصاً اسلام آباد، راولپنڈی، مری اور شمالی پنجاب میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے، عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ "تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور دریاوں کی سطح اور شہری سیلاب کے خطرات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ عوام غیر ضروری سفر سے گریز کریں، خصوصاً دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب۔”
پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس موسمی صورتحال میں احتیاط برتیں، پانی بھرے علاقوں سے اجتناب کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں ہیلپ لائن 1129 پر اطلاع دیں۔
