اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، کیونکہ پشاور میں فیڈرل کونسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کی ناکام کوشش کے بعد حکام نے شہر بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق شہر کے تمام بڑے داخلی اور خارجی راستوں پر سخت چیکنگ پوائنٹس قائم کر دیے گئے ہیں، جبکہ حساس سرکاری عمارتوں اور ریڈ زون کے اطراف حفاظتی انتظامات مزید بڑھا دیے گئے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے مسافروں کی شناخت بھی باقاعدہ چیک کی جا رہی ہے۔
فیض آباد بس ٹرمینل پر مسافروں کے شناختی کارڈ نمبرز باقاعدہ درج کیے جا رہے ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام مسافروں کا ریکارڈ متعلقہ تھانوں کے ساتھ شیئر کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات شہریوں کے تحفظ اور قانون و امن کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
اس سے قبل پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے کو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ سی سی پی او پشاور کے مطابق تینوں حملہ آور مارے گئے، جن میں سے ایک نے صبح 8 بج کر 11 منٹ پر مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جبکہ دو دیگر اندر داخل ہونے کی کوشش میں ایف سی اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔
اس کارروائی کے دوران تین ایف سی اہلکار شہید اور دو زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
حملے کے بعد صدر کے علاقے میں دو زور دار دھماکوں کی آوازیں گونجیں، جن سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے ایف سی اہلکاروں کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت کارروائی نے بڑے سانحے کو ٹال دیا۔
