اسلام آباد: سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان آئندہ ہفتے ماسکو میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں بھارت اور افغان طالبان حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر کی جانے والی سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ اجاگر کرے گا۔
اگرچہ ایس سی او میں باہمی تنازعات زیرِ بحث نہیں آتے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان ان سیکیورٹی خدشات کو علاقائی چیلنجز کے طور پر پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ ہم خیال ممالک کی حمایت حاصل کی جاسکے۔ اجلاس 17 سے 18 نومبر تک جاری رہے گا، جس میں بنیادی توجہ معاشی تعاون پر ہوگی لیکن دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے امور بھی زیرِ غور آئیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نامزدگی کے بعد نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ توقع ہے کہ ڈار اجلاس کے موقع پر اہم ملاقاتیں کریں گے جن میں چینی وزیر اعظم لی چیانگ اور روسی وزیر اعظم میخائل میشوتسین شامل ہیں، جو اجلاس کی 24ویں کونسل میٹنگ کی صدارت کریں گے۔
ذرائع کے مطابق سینیٹر اسحاق ڈار کریملن میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ایک گروپ ملاقات میں بھی شریک ہوسکتے ہیں۔ اجلاس کے بعد وہ برسلز روانہ ہوں گے، جہاں وہ بیلجیم اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام سے اہم بات چیت کریں گے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور اس کی جگہ بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نئی دہلی کی نمائندگی کریں گے۔
ایس سی او کے 10 رُکنی پلیٹ فارم میں ریجنل اینٹی ٹیررازم اسٹرکچر (ریٹس) بھی شامل ہے، جسے پاکستان علاقائی امن و استحکام کو متاثر کرنے والی دہشت گردی کے مسائل اٹھانے کے لیے ایک مناسب فورم سمجھتا ہے۔
