سان فرانسسکو: ٹیسلا کے شیئر ہولڈرز جمعرات کو سی ای او ایلون مسک کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی 878 ارب ڈالر مالیت کی تنخواہ پیکج پر ووٹ ڈالنے جا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ کمپنی کی سالانہ جنرل میٹنگ میں آسٹن، ٹیکساس میں متوقع ہے، جو نہ صرف مسک کے مستقبل بلکہ ٹیسلا کی مصنوعی ذہانت (AI) اور کارپوریٹ گورننس کی سمت کا بھی تعین کرے گا۔
اگر پیکج منظور ہو گیا تو یہ مسک کی قیادت اور ان کے وژن پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت ہوگا، جس کے تحت وہ ٹیسلا کو مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے میدان میں عالمی طاقت بنانا چاہتے ہیں۔ تاہم، اس کی مخالفت سے کمپنی کے اندر بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔
مسک کی تجویز کردہ تنخواہ کئی کارکردگی کے اہداف سے مشروط ہے، جن میں آئندہ دس سالوں میں 2 کروڑ گاڑیاں تیار کرنا، ایک ملین روبوٹک ٹیکسیوں کا آغاز، اور کمپنی کی مارکیٹ ویلیو کو 8.5 کھرب ڈالر تک پہنچانا شامل ہے۔ اس وقت ٹیسلا کی مالیت تقریباً 1.5 کھرب ڈالر ہے۔
اگرچہ مسک کے پاس کمپنی کے 15 فیصد حصص ہیں جس سے پیکج کی منظوری کے امکانات زیادہ ہیں، تاہم ناروے کے خودمختار ویلتھ فنڈ سمیت کئی بڑے سرمایہ کاروں نے اس منصوبے کو "انتہائی زیادہ” قرار دیتے ہوئے مخالفت کی ہے۔ بورڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر پیکج مسترد ہوا تو مسک اپنی خدمات ختم کر سکتے ہیں۔
شیئر ہولڈرز اس بات پر بھی ووٹ دیں گے کہ آیا ٹیسلا کو مسک کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی xAI میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے یا نہیں۔ یہ تجویز مسک کی حمایت یافتہ ہے لیکن کمپنی کے بورڈ نے اسے تاحال منظور نہیں کیا، جس سے مفادات کے تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایک اور اہم تجویز ٹیسلا کے سپر مجاریٹی ووٹنگ قانون کو ختم کر کے سادہ اکثریت کے اصول سے بدلنے کی ہے۔ ماضی میں 2019، 2021 اور 2022 میں اس کی کوششیں ناکام رہ چکی ہیں۔ بعض سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اس تبدیلی سے مسک کا کمپنی پر اثر مزید بڑھ جائے گا۔
جمعرات کے ووٹ کا نتیجہ نہ صرف ایلون مسک کی دولت بلکہ ٹیسلا کی آئندہ سمت، اختراعات اور قیادت کے توازن کا فیصلہ کرے گا۔
