واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ریپبلکن سینیٹرز پر زور دیا کہ وہ سینیٹ کے طویل عرصے سے جاری فل بسٹر کے اصول کو ختم کریں تاکہ ملک کی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاؤن کو ختم کیا جا سکے، جو اب اپنے 36ویں دن میں داخل ہو چکا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں ریپبلکن سینیٹرز کے ساتھ ناشتے کی ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ اگر فل بسٹر ختم کیا جائے تو حکومت کو دوبارہ کھولنے اور متاثرہ شعبوں میں معمولات بحال کرنے کے اقدامات میں تیزی آ سکتی ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ’’ہمیں ملک کو دوبارہ کھولنا ہے، اور اس کا واحد راستہ فل بسٹر کا خاتمہ ہے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سینیٹ نے ایسا نہ کیا تو یہ ایک ’’بڑی غلطی‘‘ ہوگی۔
فل بسٹر کا قانون اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کسی بھی قانون سازی کی منظوری کے لیے 100 میں سے کم از کم 60 سینیٹرز کی حمایت درکار ہو۔ یہ اصول دو جماعتی تعاون کو فروغ دینے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ فی الحال ریپبلکن پارٹی کے پاس سینیٹ میں 53-47 کی اکثریت جبکہ ایوان نمائندگان میں 219-213 کا معمولی برتری حاصل ہے۔
اگرچہ ٹرمپ ماضی میں بھی اس اصول کے خاتمے کی بات کر چکے ہیں، لیکن کئی ریپبلکن رہنما اس سے ہچکچا رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد ڈیموکریٹس اس تبدیلی کا فائدہ اٹھائیں گے۔ تاہم ٹرمپ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے خاتمے سے ریپبلکن پارٹی کو عوامی حمایت یافتہ قانون سازی کرنے اور طویل مدتی سیاسی استحکام حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
صدر نے اعتراف کیا کہ شٹ ڈاؤن نے اسٹاک مارکیٹ، فضائی کمپنیوں کی کارکردگی اور کم آمدنی والے امریکیوں کے لیے غذائی امداد کے پروگراموں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جاری بحران نے حالیہ مقامی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالا ہے، جسے انہوں نے اپنی جماعت کے لیے ’’غیر منصفانہ‘‘ قرار دیا۔
یہ شٹ ڈاؤن اب 36 دن سے جاری ہے، جو 2017 سے 2021 کے دوران ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے 35 دن کے سابقہ ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ اہم وفاقی خدمات کے تعطل اور عوامی بے چینی میں اضافے کے باعث واشنگٹن پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ اس سیاسی بحران کا حل نکالے۔
