سابق پاکستانی اداکارہ عرج فاطمہ، جو اب ایک مقبول انسٹاگرام انفلوئنسر بن چکی ہیں اور جن کے فالوورز کی تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، حجاب لینے کے بعد سامنے آنے والی تنقید پر خاموشی توڑ دی ہے۔ اپنے حالیہ بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دل سے لیا گیا ہے، اور وہ صرف اللہ (سبحانہ وتعالیٰ) کی ہدایت پر چلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
شوبز سے کنارہ کشی کے بعد، عرج نے سوشل میڈیا پر اپنی شناخت ایک باوقار اور باحجاب خاتون کے طور پر بنائی ہے۔ ان کے اکثر پوسٹس اب مذہبی سوچ، حیا دار فیشن اور ذاتی روحانی سفر کی جھلک پیش کرتے ہیں جو جہاں کچھ لوگوں کو متاثر کرتے ہیں، وہیں چند تنقید بھی کر بیٹھتے ہیں۔
لیکن عرج فاطمہ اپنی راہ پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا: "جب آپ اللہ کے لیے دل کی سننے لگتے ہیں تو دنیا کا شور سنائی دینا بند ہو جاتا ہے۔” ان کی یہ بات مداحوں کے دل کو چھو گئی، جنہوں نے انہیں سراہا کہ وہ دل کی آواز پر چل رہی ہیں، نہ کہ دنیا کی واہ واہ پر۔
عرج کا انداز ایک ایسی مثال بن چکا ہے جہاں شہرت کے بعد روحانیت کی طرف واپسی نظر آتی ہے۔ شو بز کی چمک دمک کے برعکس، ان کا حجاب ایک پر سکون راستے کا اشارہ ہے — وہ راستہ جس میں خودی، حیا اور اللہ سے قربت ہے۔
سوشل میڈیا پر ان کے لیے محبت بھرے پیغامات کا سیلاب آ گیا۔ مداحوں نے انہیں "حوصلے کی علامت” اور "اصل رول ماڈل” قرار دیا۔ کئی نے کہا کہ عرج جیسی خواتین ہی نئی نسل کے لیے اصل ترغیب ہیں۔
جہاں کچھ لوگ اب بھی سوال اٹھا رہے ہیں، وہیں عرج کا مؤقف واضح ہے: وہ دنیا کو خوش کرنے نہیں، رب کو راضی کرنے نکلی ہیں۔ اور یہی اصل کامیابی ہے جو خاموشی سے، وقار سے، ہر نظریے کو بدل سکتی ہے۔
