آئس لینڈ نے خبردار کیا ہے کہ بحرِ اوقیانوس کے اہم بہاؤ کے ممکنہ زوال سے یورپ میں شدید سردی اور برفباری آ سکتی ہے، اور اس خطرے کو ملک نے قومی سلامتی اور وجودی خطرہ قرار دیا ہے۔
کوپن ہیگن،13 نومبر: آئس لینڈ نے بحرِ اوقیانوس کے ایک بڑے بحری نظام AMOC (Atlantic Meridional Overturning Circulation) کے ممکنہ زوال کو قومی سلامتی کا خطرہ اور وجودی خطرہ قرار دے دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک نے کسی موسمیاتی مظہر کو براہِ راست اپنی قومی سلامتی سے جوڑا ہے اور اسے سرکاری سطح پر شدید خطرہ قرار دیا ہے۔
آئس لینڈ کے وزیرِ ماحولیات یوان پال یوانسن نے بتایا کہ یہ فیصلہ حکومت کو ممکنہ بدترین موسمی حالات کے لیے منصوبہ بندی کرنے کی اجازت دیتا ہے اور ملک کے مختلف محکمے اب اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں۔
AMOC بحرِ اوقیانوس میں ایک اہم موجودہ ہے جو گرم پانی کو استوائی علاقوں سے شمال کی جانب لے جاتی ہے، اور یہ یورپ کے موسمِ سرما کو معتدل رکھنے میں مددگار ہے۔ تاہم، ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور گرین لینڈ کی برف پگھلنے سے سمندر میں سرد پانی کا اضافی بہاؤ AMOC کے بہاؤ کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کا زوال ممکن ہے۔
اگر AMOC واقعی متاثر یا بند ہو جائے تو یورپ میں سردیوں کے درجہ حرارت میں شدید کمی، زیادہ برفباری اور طویل سرد موسم آ سکتے ہیں، جو انسانی زندگی، معیشت اور ماحول دونوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ یہ نظام پہلے بھی تاریخ میں ٹوٹ چکا ہے، خاص طور پر آخری برفانی دور سے قبل تقریباً 12,000 سال پہلے۔
وزیرِ ماحولیات یوان پال یوانسن نے کہا، "یہ ہمارے قومی استحکام اور سلامتی کے لیے ایک براہِ راست خطرہ ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی موسمیاتی مظہر کو قومی سلامتی کونسل میں وجودی خطرہ کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔”
اب آئس لینڈ کی مختلف وزارتیں چوکنا ہیں اور خطرے کے مطابق ردعمل کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ مزید تحقیق اور پالیسیوں کی ضرورت کہاں ہے اور ڈیزاسٹر تیاری کی حکمت عملی پر بھی کام جاری ہے تاکہ مستقبل میں بحرِ اوقیانوس میں ممکنہ تبدیلی کے اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔
